کراچی: گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ ریاست اور حکومتیں 75 سال گزرنے کے باوجود اپنی بنیادی ذمے داری ادا نہیں کر سکیں ، آج بھی ہم مختلف فرقوں اور قومیتوں میں تقسیم ہو کر پاکستان کو کہیں پیچھے چھوڑ گئے اور اس کے ساتھ ہم یہ بھی بھول گئے کہ بہت سارے کمزور بے سہارا لوگوں کی مدد بھی کرنی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو آرٹس کونسل آڈیٹوریم میں منعقد انجمن فلاح و بہبود المسلم گھنہول کے سالانہ اجلاس و تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی بہت سارے خاندان منتظر رہتے ہیں کہ انجمن فلاح و بہبود المسلم گھنہول جیسی تنظیمیں قائم ہوں اور ان کے سروں پر دست شفقت رکھیں۔ چاہے کسی خاندان میں بچیوں کی شادیوں کا مسئلہ ہو بلکہ ایسے خاندان بھی ہیں کہ اگر ان کے گھر میں فوتگی ہو جائے تو کفن دفن کے انتظامات بھی ان کے بس میں نہیں ہوتے۔ آج مہنگائی اور بے روزگاری کا یہ عالم ہے کہ جب گلی میں کھلونے والا آتا ہے تو مائیں اپنے بچوں کو سلا دیتی ہیں کیونکہ ان کے پاس 25 سے 30 روپے تک نہیں ہیں کہ وہ بچوں کو غبارہ اور کوئی کھلونا ہی لے کر دے دیں۔
انہوں نے کہاکہ ان مشکل ترین حالات میں انجمن فلاح و بہبود گھنہول بہت اچھے کام کر رہی ہے اور آج اس تقریب تقسیم ایوارڈ و جنرل باڈی میں اراکین انجمن کے جذبہ خدمت سے متاثر ہو کر حاضر ہوا ہوں۔ درحقیقت اپنے مسائل چھوڑ کر دوسروں کے مسائل حل کرنے والے لوگ ہی اللہ کے بہت قریب ہوتے ہیں ، مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ اراکین انجمن فلاح و بہبود المسلم گھنہول کوئی لینڈ لارڈ نہیں بلکہ ایک نیک دل و نیک نیت رکھنے والے انسانیت کے لیئے کام کر رہے ہیں ایسے لوگ اور ان کی فلاحی تنظیمیں حقیقی معنوں میں ریاست کی معاون ہیں۔
قبل ازیں صدر انجمن فلاح و بہبود المسلم گھنہول محمد منصف نے گورنر سندھ کو روایتی پگڑی پہنائی اور جنرل سیکریٹری راشد منہاس نے انہیں امن کی تلوار پیش کی جس کے بعد پولیس بینڈ نے والہانہ انداز میں گورنر سندھ کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ بعد ازاں انجمن فلاح و بہبود المسلم گھنہول کے لیئے 22 سال کے طویل عرصے سے بطور خازن اعلٰی کی حیثیت سے فرائض سرانجام دینے والے مسعود انور کو گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے صادق و امین کا ایوارڈ دیا۔
اسی طرح 6 سالہ بہترین کارکردگی پر سابق صدر انجمن مرزا قمر الزمان بیگ ، سابق نائب صدر حیدر زمان اور سابق نائب خازن محمد شبیر کو حسن کار کردگی کے ایوارڈز دیئے۔
