عالمی عدالت سے پوٹن کے وارنٹ جاری، روس کا سخت ردعمل

ماسکو : دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف نے روس کے صدر ویلادیمیر پوٹن کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے جبکہ روس نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

صدر عالمی عدالت انصاف کے مطابق روس میں بچوں کے حقوق کی کمشنر ماریا الیکسیوینا لیووا بیلوواکی گرفتاری کیلئے بھی وارنٹ جاری کئے گئے ہیں۔یہ وارنٹ بچوں کی غیر قانونی ملک بدری اور یوکرین کے مقبوضہ علاقوں سے بچوں کی روس منتقلی میں ملوث ہونے پر جاری کئے گئے ہیں۔ عالمی عدالت کے اقدام پر روس نے سخت ردعمل دیتے ہوئے وارنٹس کو کالعدم قراردیدیا ۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے صدرپوٹن کے وارنٹ گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ روس بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی)کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا اور اسکے فیصلوں کو کالعدم سمجھتا ہے۔ ہم اس معاملہ کو انتہائی اشتعال انگیز اور ناقابل قبول سمجھتے ہیں۔ روس کیساتھ ساتھ کئی دوسری ریاستیں بھی اس عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتیں ۔

اس قسم کے کوئی بھی فیصلے قانون کے لحاظ سے روس کیلئے کالعدم ہیں۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت 1998 کے روم قانون کے ذریعہ تشکیل دی گئی تھی، یہ اقوام متحدہ کا حصہ نہیں اور اسکی توثیق کیلئے دستخط کرنیوالے ممالک ہی اسکے سامنے جوابدہ ہیں۔

غیر دستخط کنندگان میں روس، امریکہ ، اور چین شامل ہیں۔ 2016 میں صدر پوٹن نے ایک حکم نامہ پر دستخط کئےجس میں کہا گیا تھا کہ روس آئی سی سی کا فریق نہیں بنے گا۔ روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ عالمی عدالت اپنی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی اور بین الاقوامی انصاف کا حقیقی طور پر آزاد ادارہ نہیں بن سکی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: