کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے جماعت اسلامی کی جیتی ہوئی 6یوسیز میں دھاندلی زدہ اور تبدیل شدہ نتائج کو درست کرنے کے بجائے دوبارہ گنتی کا جو فیصلہ کیا ہے اسے ہم عدالت میں چیلنج کریں گے۔
اہل کراچی نے جو مینڈیٹ دیا ہے اس کا تحفظ کریں گے، دو ماہ سے زیادہ عرصے تک کوئی فیصلہ نہ کر کے الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی کو فائدہ پہنچایا ہے اور سندھ حکومت کو پورا موقع فراہم کیا گیاکہ نتائج میں من پسند تبدیلی کی جا سکے۔سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے ہاتھوں کراچی کو مزید تباہ و برباد نہیں ہونے دیں گے۔ جماعت اسلامی ہی کراچی کی حالت سدھار سکتی ہے۔
18اپریل کو ملتوی شدہ نشستوں پر انتخابات میں عوام ترازو کے نشان پر مہر لگا کر جماعت اسلامی کے میئر کا انتخاب یقینی بنائیں۔حکومت کے اعلان کے باوجود رمضان المبارک میں سحر و افطار میں گیس کی لوڈشیڈنگ سے عوام شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا شکار ہو رہے ہیں۔
عدالت اور نیپرا کے احکامات کے بر خلاف کے الیکٹرک کا بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی پر پوری کی پوری آبادی کی بجلی بند کر نا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ عوام کو رمضان المبارک میں گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات دلائی جائے، ان خیالات کا اظہارانہوں نے ہفتہ کو ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کراچی میں پیپلز پارٹی کا میئر لانے میں اس کا مدد گار بن رہا ہے، دوبارہ گنتی کے نام پر پہلے بھی جماعت اسلامی کی جیتی ہوئی سیٹیں پیپلز پارٹی کو دے دی گئیں، آر اوز اور ڈی آراوز کی نگرانی میں دوبارہ گنتی کے دوران سنگین بے ضابطگیاں اور الیکشن قوانین کی خلاف ورزیاں کی گئیں۔
انہوں نے کہاکہ ووٹوں کے تھیلے پھٹے ہوئے اور سیل شدہ لفافوں کی سیلیں ٹوٹی ہوئی نکلیں اور اصل فارم12کے بغیر دوبارہ گنتی کرائی گئی، ہماری تمام شکایات اور الیکشن کمیشن کو تحریری درخواست کے باوجود کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، اب مزید 6یوسیز پر دوبارہ گنتی کا حکم دے کر ایک بار پر پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا جا رہا ہے۔
