سندھ: محکمہ تعلیم میں غیر قانونی بھرتیاں، 3 سال بعد بھی انکوائری نہ ہوسکی

کراچی: پی پی کے سابق وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے دور میں شعبہ تعلیم میں غیرقانونی بھرتیوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، نیب کی تحقیقات میں عدم دلچسپی پر چیف جسٹس برہم ہوگئے۔

سابق وزیر تعلیم سندھ پیر مظہرالحق کے دور میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس کی سماعت کے دوران انکوائری مکمل نا کرنے پر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے نیب پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں سابق وزیرتعلیم سندھ پیرمظہر کیخلاف غیرقانونی بھرتیوں کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین سال سے انکوائری چل رہی ہے۔ ریفرنس دائر نہیں کرنا تو کیس بند کردیں۔۔  کیانیب کو ایک انکوائری کے لیے دس سال چاہئیں؟

چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کے تفتیشی افسران کو تفتیش کرنا ہی نہیں آتی، عدالت نے پیر مظہرالحق اور دیگر کے خلاف پندرہ جولائی تک ریفرنس دائر کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

نیب کا کہنا ہے پیر مظہر الحق نے اپنے دور وزارت میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی تیرہ ہزار سے زائد غیرقانونی بھرتیاں کیں، نیب افسر نے عدالت کو بتایا پیر مظہر الحق نے اپنے دور وزارت میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی تیرہ ہزار سے زائد غیرقانونی بھرتیاں کیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: