Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
اپوزیشن کو مذاکرات کے لئے شہباز شریف کی طرف آنا ہی ہوگا, زرداری | زرائع نیوز

اپوزیشن کو مذاکرات کے لئے شہباز شریف کی طرف آنا ہی ہوگا, زرداری

اسلام آباد : پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شہباز شریف اپوزیشن سے مذاکرات کریں لیکن اپوزیشن کو مذاکرات کے لئے شہبازشریف کے پاس آنا ہوگا کیونکہ یہ وزیراعظم ہیں۔آصف علی زرداری نے آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کے حوالے سے قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو پیغام دیا ہے۔
سابق صدر آصف علی رزداری کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں آنے سے پہلے شرائط نہ رکھی جائیں، ہم نے تو نہیں کہا تھا کہ بائیکاٹ کرو یا استعفے دو,سوموٹو میرے خلاف ہوئے میں نے دیکھے ہیں، چیف جسٹس صاحب کہتے ہیں اس افسر کا نام نہیں لوں گا جس نے مجھے رپورٹ دی ہے، آپ کو حق نہیں پہنچتا کہ پرائیویٹ انفارمیشن لیں، ہمارے ہاتھ صاف تھے جو گواہ بنایا وہ تحویل میں فوت ہوا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے باتھ رومز سے ان کے کیمرے پکڑے اور میں گارڈ کو پکڑ کر باہر لایا، میری بہن کو رات کے 12 بجے اسپتال سے اٹھایا گیا، تب سوموٹو نہیں لیا گیا، میں کہاں کہاں بتاؤں کہ میں اس تاریخ کا شاہد ہوں لیکن بات سنی ان سنی ہو گئی, ہم نے جمہوریت بحال کی تھی، میرے رب نے چاہا تو آئین کو کچھ نہیں ہو گا اور نہ اس کے ساتھ کھلواڑ کرنے دیں گے۔
آصف زرداری کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان بنائیں گے، آج چین، روس اور ملائشیا اپنا آئی ایم ایف بنا رہے ہیں، بھارت تو روس سے تیل لیتا ہے اور ریفائن کرتا ہے، ایسی کوئی چیز نہیں کہ پاکستان نہیں کر سکتا، ہمیں وقت چاہیے۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ وزیرِ اعظم ہی واحد اتھارٹی ہے ڈائیلاگ کرنے کے لیے، یہ پہلی دفعہ نہیں کہ کورٹ نے نوٹس دیا، مسعود شریف کو بھی نوٹس دیا گیا، پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ایک ہی نعرہ مارا پاکستان کھپے، آج کا صدر خود مانتا ہے اگر میں کوئی دوسرا نعرہ لگاتا تو پاکستان نہ بچتا, پاکستان اور آئین کو بچاتے رہیں گے، جب تک دم میں دم ہے آئین اور ملک کو سنواریں گے۔