اے پی ایم ایس او کے قیام کا مقصد ’کرتا پاجامہ‘ نہیں، قسط دوم

گزشتہ سے پیوستہ

مضمون کا پہلا حصہ شائع ہوا تو ہمارے ایک صحافی دوست جن کی پیدائش کراچی اور آباؤ اجداد کا تعلق ہندوستان سے تھا، انہوں نے سوال کیا کہ 1978 سے قبل مہاجر لڑکوں کو یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ملتا تھا ایسا کیسے ممکن ہے، انہیں جب تاریخ کے اوراق پلٹ کر تصویر دکھائی تو وہ بات تسلیم کرنے کو تیار ہوئے۔

اوراق اور حقائق کے حساب سے 1978 سے قبل کراچی کےمقامی بچوں کے ایڈمیشن یونیورسٹی میں تو ضرور ہوجاتے تھے مگر انہیں صرف آرٹس کے شعبہ جات میں ہی داخلہ ملنے کی اجازت ملتی تھی تاہم اگر کسی بچے کو سائنس کے شعبے میں داخلہ درکار ہوتا تھا تو اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی سے رابطہ کریں تاکہ وہاں موجود سیاسی طلبہ تنظیمیں داخلہ کرواسکیں پھر وہ بچہ پابند ہوتا تھاکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعت کا بھی حصہ بنے۔

اب آتے ہیں قسط اول کی طرف، گزشتہ تحریر میں بات ختم ہوئی تھی کہ جب ہاسٹل سے بے دخل کیے جانے کے بعد طلبہ تنظیم بنانے کا باقاعدہ اعلان ہوا تو وہاں پہلے سے موجود جماعتوں کو یہ بات ہضم نہ ہوئی اور انہوں نے ساتھ دینے والے طلبا کو ڈرانا اور ہراساں کرنا شروع کیا، اسی دوران امتحانات سر پر آگئے تو طالب علموں نے تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا۔

اس وقت کے طلبہ نے تمام تر صورتحال کے بعد طے کیا کہ اب ملاقات کے لیے ایک جگہ مختص کی جائے اور اس طرح شعبہ آرٹس میں لابی کا قیام وجود میں آیا، یہاں یہ بات کی قابل ذکر ہے کہ الطاف حسین کا ساتھ دینے والے عظیم احمد طارق کچھ عرصے تک اسلامی جمعیت طالبہ میں بطور کارکن کام کرچکے ہیں۔

پہلا حصہ پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں: اے پی ایم ایس او کے قیام کا مقصد کُرتا پاجامہ نہیں،  قسط: اول

جب بیٹھک کی ایک جگہ متعین ہوئی تو وہاں پر بچے مختلف مسائل لے کر آنے لگے، غالباً تین ماہ کا عرصہ مکمل ہوا تھا کہ ایک چھوٹی کی مٹینگ منعقد کی گئی جس میں بانی ایم کیو ایم نے ساتھ دینے والے طلبہ اور وہاں موجود شرکا کو پابند کیا کہ لڑکے ایک دوسرے کو ساتھی اور خواتین کو باجیاں کہہ کر مخاطب کریں گے، اس طرح جامعہ کراچی میں ان دو ناموں کی شناخت کا آغاز ہوا۔

ایک چھوٹی سی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں عظیم احمد طارق، سلیم حیدر سمیت دیگر اچھی سوچ کے حامل لوگوں کو رکھا گیا تاہم جو بھی فیصلہ کیا جاتا تھا وہ تمام طالبہ کی مشاور کے بعد ہی کیا جاتا، سیاسی جماعت کا نظم و ضبط دیکھ کر نہ صرف اساتذہ بلکہ دیگر طالب علم بھی متاثر ہوئے اور انہوں نے الطاف حسین سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔

وقت تیزی سے گزررہا تھا کہ دوسرا سیمسٹر آن پہنچا اور طلبہ تنظیموں کی آپس میں گرمی بڑھنے لگی تو الطاف حسین نے واضح طور پر اعلان کیا کہ میرے ساتھ رہنے والا کوئی لڑکا (ساتھی) یا لڑکی(باجی) نقل کر کے پرچے نہیں دے گا، چاہیے ہمارا سال ہی کیوں نہ ضائع ہوجائے مگر ہمارا مقصد علم کا حصول ہے تاہم اگر دھونس دھمکی کے زریعے دیگر کی طرح نقل کی تو ہم اپنے مقصد سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔

اعلان کے بعد دیگر جماعتوں سے آئے طالب علموں کے منہ بن گئے تاہم اساتذہ کی جانب سے اس اقدام کو بہت زیادہ سراہا گیا اور اس کے بعد جامعہ کراچی میں ایک بار پھر اے پی ایم ایس او مزید تیزی سےپھلنے پھولنے لگی۔

اس اعلان کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ دیگر سیاسی جماعتیں جو عرصہ دراز سے ان کاموں میں ملوث تھیں انہٰیں بھی سوچنے کا موقع ملا اور خاص طور پر وہ حکمت عملی بے کار ہوگئی جس کے تحت یہ سوچا گیا تھا کہ امتحانات میں ہاتھ صاف کرنے کا موقع مل جائے گا۔

                                                                                                                                                                                جاری ہے۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: