زرداری کے قریبی ساتھی کی گمشدگی پر ہائی کورٹ برہم

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے آصف زرداری کے قریبی ساتھی اور سابق مشیر سندھ حکومت نواب علی لغاری کی عدم بازیابی پر ایک مرتبہ پھر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے آصف زرداری کے قریبی ساتھی نواب لغاری کی بازیابی کی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران وزارت داخلہ اور دفاع نے اپنے جواب جمع کرائے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے کہا گیا کہ نواب لغاری اس کے زیر انتظام کسی ادارے کے پاس نہیں، جب کہ وزارت دفاع کے ڈائریکٹر لیگل نے کہا کہ نواب لغاری آئی ایس آئی کے پاس نہیں جب کہ ملٹری انٹیلی جنس کے جواب کا انتظار ہے، ایم آئی کا جواب آنے تک کوئی آرڈر پاس نہ کیا جائے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ایم آئی اور آئی بی کی جانب سے جواب نہ آنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یونیفارم والے لوگ ہمارے کان اور آنکھیں ہیں، وہ دیانتداری سے کام کریں، اگر مغوی کسی دہشت گردی میں ملوث ہے تو اس کیخلاف کارروائی کریں اور اگرمغوی کلیئر ہے تو غیر قانونی حراست کے بجائے رہا کیا جائے۔ بعد ازاں عدالت نے ایم آئی اورآئی بی کو جواب داخل کرنے کے لیے مہلت دیتے ہوئے سماعت 12جولائی تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ 5 اپریل کو اسلام آباد کے تھانہ لوہی بھیر میں نواب علی لغاری کے قریبی عزیز رمضان لغاری کی جانب سے درخواست جمع کرائی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ 4 اپریل کو خود کو سرکاری ملازم ظاہر کرنے والے چند افراد ان کے گھر آئے اور انہیں زبردستی گاڑی میں بیٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: