Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
سلیم کھتری کے قتل میں‌ ملوث ملزمان کی گرفتاری دو ہفتے بعد ظاہر | زرائع نیوز

سلیم کھتری کے قتل میں‌ ملوث ملزمان کی گرفتاری دو ہفتے بعد ظاہر

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) نیو کراچی میں قتل کئے جانے والے مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والے سلیم کھتری کے قتل میں ملوث 2 ٹارگٹ کلر سمیت 3 ملزمان کی گرفتاری کراچی پولیس چیف نے 2 ہفتے بعد پریس کانفرنس میں ظاہر کردی ۔

کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ 22 مارچ کو نیو کراچی کے علاقے بلال کالونی میں 2 موٹر سائیکلیوں پر سوار 4 ملزمان نے فائرنگ کرکے مولانا سلیم کھتری کو قتل کردیا تھا واردات کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے تھے پولیس نے ہرزوایے سے تفتیش کی تو معلوم ہوا سلیم کھتری کو فرقہ واریت پر قتل کیا ہے قتل کے بعد شہر میں منافرت پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی ، مذہبی جماعت کے رہنماوں نے بڑی ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس سے تعاون کیا۔

کراچی پولیس چیف نے کہا کہ ملزمان کا سراغ ملنے کے بعد کہیں مقامات پر چھاپے مارے مگر کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی حساس اداروں کی مدد سے نیو کراچی اور شہر کے مختلف علاقوں میں تابڑ تور چھاپے مارکر 3 ملزمان کمیل عباس زیدی ، محسن حسین اور علی مہدی کو گرفتار کرکے تین ٹی ٹی پسٹل برآمد کرلی جبکہ ملزمان کا چوتھا ساتھی پڑوسی ملک فرار ہوگیا سلیم کھتری کے قتل میں پڑوسی ملک شامل ہے۔ جس نے کراچی کے ٹارگٹ کلر کو رقم کے عوض ان سے سلیم کھتری کو قتل کرایا ہے۔

ملزمان نے دوران تفتیش مزید وارداتوں کا اعتراف بھی کیا ہے ذرائع نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کو 2 ہفتے قبل حساس اداروں کی مدد سے پولیس نے سمن آباد کے علاقے سے گرفتار کیا تھا جس کی خبریں متعدد اخبار میں شائع ہوچکی ہے ملزمان نے سلیم کھتری کو باقاعدہ ریکی کرنے کے بعد قتل کیا تھا۔

اس سے قبل بھی مولانا قیوم اور خالد رضا کو بھی قتل کیا تھا تھا واقعے کےبعد ایسا لگ رہا تھا کہ تینوں وارداتوں میں ایک ہی گروہ ملوث ہے مگر تینوں وارداتوں میں الگ الگ گروہ ملوث نکلے ،