راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان اور شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ اگر 1971 میں ہمارا آج کا میڈیا ہوتا تو بنگلا دیش نہ بنتا۔
اپنی طویل ترین پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے پلوامہ کے بعد سے بھارت کی جانب سے ہونے والی مسلسل سازشوں سے پردہ اٹھایا اور بھارت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے پکے دوست امریکا کو بول کر ایف سولہ طیاروں کی گنتی کروالے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت نے ہمیشہ سے ہی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کی، ماضی میں بھی یہ سلسلہ زور و شور سے جاری رہا مگر آج ہمارا میڈیا بھارت کو مؤثر جواب دیتا ہے۔
آصف غفور کا کہنا تھا کہ ’بھارت یاد رہے یہ 1971 نہیں اور نہ ہی وہ فوج اور نہ ویسے حالات ہیں، اگر 1971 میں ہمارا آج والا میڈیا ہوتا تو بھارت کی سازشیں بری طرح سے بے نقاب ہوتیں، وہاں کی مثبت اور حالات کی درست رپورٹنگ ہوتی تو مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا۔
اُن کا کہنا تھا کہ خطے میں انٹرنیشنل پراکسی چل رہی ہیں اس کے نتیجے میں 79 کے بعد جہاد کی ترویج شروع ہوئی، ایران میں انقلاب آیا اس کا ہمارے معاشرے پر اثر ہوا، مدارس میں اضافہ ہوا، جہاد کی ترویج زیادہ ہوئی، افغانستان کی جنگ کو جائز قرار دے کر اس وقت کے لحاظ سے فیصلے کیے گئے، نائن الیون کے بعد جب صورتحال تبدیل ہوئی تو ہمارے خطے میں معاشی جنگ شروع ہوئی، چین امریکا سب کے اپنے مفادات ہیں، بین الاقوامی قوتوں نے اپنے مفادات کے لحاظ سے پاکستان کو پالیسی بنانے پر مجبور کرنا چاہا۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ نائن الیون سے لے کر آج تک پاکستان نے کائنیٹک آپریشن کیے، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کیں، القاعدہ، داعش، ٹی ٹی پی وغیرہ جس کا بھی نام لیں، ہم نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کائنیٹک آپریشن کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا آج ہم ثبوت اور لاجک کے ساتھ کہتے ہیں کہ پاکستان کے اندر کسی قسم کا کوئی منظم دہشت گردی کا نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا ریاست بہت عرصے پہلے فیصلہ کرچکی تھی کہ اپنے معاشرے کو شدت پسندی سے پاک کرنا ہے۔
