کراچی: قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے زندگی کو لاحق خطرات سے متعلق چیف جسٹس آف پاکستان،چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط ارسال کردیا۔
خط میں حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ مجھے قتل کرنیکی سازش بلاول ہاؤس میں بنائی جاچکی ہے خصوصی ٹاسک ڈی آئی جی فرخ بشیرکو دیا گیا ہے پہلے بھی سازش کرکے مجھ پرحملے کروائے گئے،متعدد جھوٹے مقدمات بھی بنائے گئے،دوران حراست جیل کے اندرسانپ چھوڑکرمجھے قتل کرنیکی کوشش بھی کی گئی ایک بارپھربلاول ہائوس میں سازش بنائی جاچکی ہے،آصف علی زرداری،بلاول بھٹو کے احکامات پروزیراعلیٰ نے مجھے قتل کرنیکی ذمہ داری اٹھائی ہے۔
ان کا کہناتھاکہ خطرات کے باوجود پولیس سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی،پہلے رینجرزسیکیورٹی واپس لی گئی اب پولیس بھی واپس لی گئی ہے،اپوزیشن لیڈرکا عہدہ سینئروزیرکے برابر ہوتا ہے،مجھے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مجھ مرتضیٰ بھٹو کی طرح قتل کیا جائیگا یا مجھے جھوٹے مقدمات میں گرفتارکرکے دوران کسٹڈی بھی قتل کیا جاسکتا ہے،خطرات سے اعلیٰ علدیہ کو آگاہ کررہا ہوں مجھے کچھ بھی ہوا تو تمام تر ذمہ داری آصف علی زرداری،بلاول،مراد علی شاہ،ڈی آئی جی فرخ بشیر اوردیگرپرہوگی۔
