کراچی سے پارا چنار تک دہشت گردی، کتنی ہلاکتیں‌ہوئیں؟‌

کراچی/ کرم ایجنسی / پارہ چنار: پاکستان میں دہشت گرد سر اٹھانے کی کوشش کرنے لگے، امن و امان کے دعوے اور دشمنوں کی گرفتاریوں کے باوجود فسادی اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہے ہیں،

تفصیلات کے مطابق الوادعی جمعے اور 27ویں روزے کو پاکستان کے تین اہم علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتیں کی گئی، سب سے بڑی لرزہ خیز واردات پارا چنار میں ہوئی جہاں بازار میں یکے بعد دیگرے چار دھماکے ہوئے جبکہ کوئٹہ آئی جی آفس کے باہر دھماکا اور

پاکستان کے سرکاری ذرائع کے مطابق وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے ہیڈکوارٹر پاڑہ چنار میں دو دھماکوں میں کم از کم 42 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق دھماکے جمعے کی شام پاڑہ چنار میں کڑمان اڈہ کے قریب ہوئے۔

دھماکوں کے وقت لوگ خریداری میں مصروف تھے۔

پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو ایجنسی ہیڈکوارٹر ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف اور وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے ان دھماکوں کی مذمت کی گئی ہے اور ان ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی لواحقین کے ساتھ دکھ کا اظہار کیا ہے۔

ادھر ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ دہشتگردی کے حالیہ واقعات کا تعلق سرحد پار دہشتگردوں کی پناہ گاہوں سے ہے۔

ispr

جمعے کو ہی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں انسپکٹر جنرل پولیس کے دفتر کے قریب خودکش دھماکہ کیا گیا تھا جس میں 13 افراد ہلاک جبکہ 20 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں سات پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

جبکہ کراچی میں سائیٹ ایریا میں پولیس اہلکاروں پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چار پولیس اہلکار ہوگئے، جن میں ایک اے ایس آئی بھی شامل ہے۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سائیٹ ایریا حبیب بینک چورنگی کے قریب میں پیش آیا ہے، ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار افطار کے وقت ہوٹل پر موجود تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی۔

واضح رہے کہ رواں سال مارچ کے اواخر میں پاڑہ چنار میں خواتین کی ایک امام بارگاہ کے نزدیک بم دھماکے میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

جبکہ رواں سال جنوری میں پاڑہ چنار میں سبزی منڈی کی عیدگاہ مارکیٹ کے قریب والے دھماکے میں بھی کم از کم 24 افراد ہلاک اور 28 زخمی ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: