کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے گزشتہ روز کورنگی ڈھائی نمبرمیں ڈکیتی کی واردات میں بائیک چھیننے کے دوران مزاحمت پر مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے 17سالہ نوجوان حذیفہ کے والد محمد شاکر اوربھائی شارق علی شاہ سے ان کی رہائش گاہ پرملاقات کی اورتعزیت کی۔ سندھ حکومت اورمحکمہ پولیس کی نا اہلی و ناقص کارکردگی کی شدید مذمت کی۔
علاوہ ازیں انہوں نے گزشتہ روز منوڑہ میں ڈوب کرجاں بحق ہونے والے انس کی جامع مسجد رشید یہ اللہ والا ٹاؤن کورنگی میں ہونے والی نمازجنازہ میں بھی شرکت کی۔مرحوم کے اہل خانہ سے ملاقات و تعزیت کی اوراس افسوسناک واقعے پرگہرے دکھ اورافسوس کا اظہارکیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے حذیفہ کے اہل خانہ سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں اس وقت ڈاکوؤں اورلٹیروں کا راج ہے۔ڈکیتی اورچوری کرنے والے کھلے عام گھوم رہے ہیں۔
افسوس کے شہریوں کی جان و مال کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے۔سندھ حکومت، پولیس اورقانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہیں،ڈاکو اورچور جانتے ہیں کہ اگر انہیں پکڑبھی لیا گیاتوچھوڑ دیاجائے گا۔ پولیس والے قاتلوں کو پکڑنے کے بجائے شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کو تنگ کرتے ہیں اور متاثرہ خاندان تھانے جانے سے گریز کرتے ہیں۔
آئی جی سندھ بتائیں کہ شہید وں کے اہل خانہ کے ساتھ ایسا رویہ کیوں رکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں ہے،ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چوری و ڈکیتی کی وارداتوں میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کو زرِ تلافی دیا جائے اور شہریوں کی جا ن و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
جماعت اسلامی ضلع کورنگی کی ٹیم شہید ہونے والے اہل خانہ کے لواحقین کے ہمراہ پولیس سے بات کریں اور تنگ کرنے کے عمل کو دیکھیں۔ اس موقع پرامیرجماعت اسلامی ضلع کورنگی عبد الجمیل،نومنتخب چیئرمین اختر حسین،وائس چیئرمین قاری منصور،نامزد امیدوارچیئرمین یوسی 2عبد الواسع،نامزد امیدواروائس چیئر مین منصور فیروز اور قاضی صدر الدین و دیگر بھی موجود تھے۔
