کراچی : کراچی سرکلرریلوے منصوبہ ایک بارپھرالتوا کا شکارہونیکا امکان ہے،سندھ حکومت نے کراچی سرکلرریلوے منصوبہ دوبارہ سی پیک میں شامل کرانے کیلئے وفاقی حکومت سے رابطہ کرلیا،
سابق حکومت نے کے سی آرکی بحالی کا منصوبہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ بورڈ کے تحت نجی شعبے کے حوالے کیا تھا،30 ارب روپے مالیت کا منصوبہ 19 برس تاخیرکا شکارہونے پرلاگت 38 .292 ارب روپے تک جاپہنچی ہے۔
سندھ حکومت نے کراچی سرکلرریلوے (کے سی آر) منصوبے کو صوبائی حکومت کے حوالے کرنے کیلئے وفاقی حکومت سے رابطہ کرلیا اورکہا ہے کہ منصوبے کو دوبارہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) میں شامل کرکے منصوبے پرعملدرآمد کیلئے کوششوں میں سندھ حکومت سے تعاون کیا جائے،19 برس سے تاخیرکا شکارکراچی سرکلرریلوے منصوبہ اس وقت پاکستان ریلوے کے کنٹرول میں ہے اور سابق حکومت کے وزیرترقیات ومنصوبہ بندی اسد عمرمنصوبے کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ بورڈ کے تحت نجی شعبے کے حوالے کرچکے ہیں اورنجی شعبہ کی جانب سے ریلوے کو کراچی سرکلرریلوے کے روٹ کی بحالی اورالیکٹرک ٹرین چلانے کی پیشکش کی جاچکی ہے۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی بورڈ (پی 3 اے) کے ذریعہ منظورکردہ ٹرانزیکشن اسٹرکچرکے تحت نجی شعبہ کو اس منصوبے کو فنانس،ڈیویلپ کرنے اورچلانے کا ذمہ داری دی گئی تھی تاہم ملک میں حکومت کی تبدیلی کیساتھ ہی منصوبے پرعملدرآمد التواء میں پڑگئی اوراب مزید التواء کا خدشہ ہے،علاوہ ازیں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت سے رابطے کے بعد 44 کلومیٹرطویل کے سی آر کو دوبارہ شروع کرنے اورمنصوبے کو CPEC کے تحت لانے کے فیصلے کے بعد کے سی آرکیلئے زیرتعمیر انڈر پاسز دیگرترقیاتی کام روک دیا گیا ہے جسکے تحت کراچی سرکلر ریلوے کی تعمیر 2023 کے وسط تک مکمل کی جانی تھی اب غیرمعینہ مدت کیلئے التواء کا شکارہوگئی ہے۔
موجودہ وفاقی حکومت کے وزیرمنصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کی زیرصدارت سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں 38 .292 ارب روپے کی لاگت سے کراچی سرکلرریلوے کی بحالی کی دوبارہ منظوری دی گئی تھی اور43 کلومیٹر کے ڈوئل ٹریک اربن ریل ماس ٹرانزٹ سسٹم کی تعمیر 4 برس کی مدت میں مکمل کرنے کا پروگرام منظورکیا۔
منصوبے کے تحت الیکٹرک ٹرینیں پورا ہفتہ اور دن میں 17 گھنٹے چلیں گی اورکراچی کے گنجان علاقے میں کوریڈور کیساتھ ساتھ 30 اسٹیشن بنائے جانا تھے لیکن اب منصوبے کے دوبارہ سی پیک میں لیجانے اورچینی سرمایہ کاروں کودوبارہ کے سی آرمنصوبے میں سرمایہ کاری پررضامند کرنے میں کئی برس لگ جانے کا خدشہ ہے۔
