پاکستان پیپلز پارٹی مئیر کراچی کے معاملے اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔
ذرائع کو ملنے والی اطلاع کے مطابق وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے میئر کراچی کیلئے مرتضی وہاب کا نام تجویز کیا جبکہ سعید غنی نجمی عالم کو میئر بنانے کیلئے سرگرم بلاول بھٹو زرداری بھی اختلافات کو دیکھ کر شکریہ کراچی جلسے میں میئر کراچی کے نام کا اعلان نا کر سکے تھے،
کراچی میں بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد کراچی کا میئر کون ہوگا کی دوڑیں لگ گئیں ہیں، اس معاملے پر پیپلز پارٹی بھی بظاہر اختلافات کا شکار نظر آتی ہے۔
کراچی میں کامیابی کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں ہی صوبائی وزیر سعید غنی نے نجمی عالم کو میئر بنانے کا عندیہ دیا تھا تاہم آج وزیراعلی ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی ہمراہ شہر ہے اور اس کا میئر اسی کمرے میں موجود ہے اس وقت وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کے ہمراہ سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب بھی موجود تھے۔
وزیراعلی سندھ کیپریس کانفرنس کے بعد پیپلز پارٹی میں ہل چل مچ گئی اور نثار کھوڑو سمیت بلاول ہاؤس میڈیا سیل سمیت دیگر رہنما تردید کرتے ہوئے نظر آئے کے میئر کراچی کیلئے کوئی نام فائنل نہیں ہوا۔
پیپلزپارٹی کے ذرائع سے یہ خبریں ضرور سامنے آئیں کہ قیادت نے کراچی میئر کے لیے مرتضیٰ وہاب جبکہ حیدرآباد کے میئر کیلیے کاشف شورو کا نائم فائنل کیا ہے۔
دوسری جانب چاند روز قبل ہی سندھ اسمبلی سے بلدیاتی ایکٹ 2001 کا ترمیمی بل سندھ اسمبلی سے پاس کرایا گیا جس کے تحت کوئی بھی شخص میئر کراچی بن سکتا ہے تاہم اس کو چھ ماہ کے اندر انتخابات میں حصہ لیکر کامیاب ہونا ہوگا۔ یہ قانون مشرف دور میں لایا گیا تھا جس کے تحت اس وقت کے دو میئر مصطفی کمال اور نعمت اللہ خان منتخب ہوئے تھے جبکہ پیپلز پارٹی میں میئر کے نام پر شدید اختلافات کے باعث چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی شکریہ کراچی جلسے کے دوران میئر کراچی کے نام کا اعلان نہیں کر سکے تھے۔
اعلان نہ ہونے کی وجہ سے کارکنان مایوس واپس لوٹ گئے تھے کیونکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ جلسے میں بلاول بھٹو میئر کراچی اور حیدر آباد کے ناموں کا اعلان کریں گے۔
