Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کراچی میں بانی ایم کیو ایم کے بل بورڈز لگنا شروع! | زرائع نیوز

کراچی میں بانی ایم کیو ایم کے بل بورڈز لگنا شروع!

کراچی: متحدہ لندن کے لیے کام کرنے والے خاموش اور متحرک کارکنوں نے شہر بھر میں بانی ایم کیو ایم کے بل بورڈز نصب کرنا شروع کردیے۔

روزنامہ جرات اخبار کی رپورٹ کے مطابق لائنزایریا میں عام شاہراہ پر بانی ایم کیو ایم کی تصویر والا بل بورڈ لگا دیا گیا ہے جبکہ عید الاضحیٰ پر شہر بھر میں لگائے گئے بانی ایم کیو ایم کی تصویر والے بینرز بھی تاحال اداروں کی جانب سے ہٹائے نہیں گئے ہیں۔

متحدہ لندن کی اچانک شہر قائد میں ہونے والی سرگرمیوں کے باوجود کارروائیاں نہ ہونے پر ’وفا پرست‘ کارکنوں کے حوصلے مزید بلند ہوگئے جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان مخمصے کا شکار ہیں۔

ذرائع کے مطابق متحدہ لندن کے کارکنان نے شہر بھر میں بانی ایم کیو ایم کی تصاویر اور بل بورڈ نصب کرنے کی حکمت عملی مرتب کی ہے۔ ذرائع کو یہ بھی معلوم ہوا کہ کراچی اور اندرون سندھ سمیت راولپنڈی اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں ایم کیو ایم لندن کی سرگرمیاں اچانک بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر بانی ایم کیو ایم کی چاکنگ اور لندن کی سرگرمیوں کے بعد اداروں کی جانب سے کوئی ایکشن نہ ہونے کو ایک اچھا اور اجازت کا پیغام سمجھا جارہا ہے تاہم اداروں کی جانب سے اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل لندن کی چھوٹی سرگرمی پر بھی ادارے متحرک ہوجاتے تھے جس کے باعث کارکنان کو روپوش ہونا پڑتا جبکہ شہر بھر میں گرفتاریاں بھی رپورٹ ہوتی تھیں۔

ممکنہ سیاسی تبدیلی، ایم کیو ایم پاکستان کا بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کا فیصلہ

ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ لندن کو سیاسی سرگرمیوں کی غیر اعلانیہ اجازت دے دی گئی ہے جس پر اب وہ کھل کر سیاسی میدان میں اترنے کے لیے تیاری کررہے ہیں۔ دوسری جانب سرکاری اداروں نے واضح کیا ہے کہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی جماعت کے کارکن کے لیے کوئی گنجائش نہیں اور یہ پالیسی لندن کے لیے بھی ہے۔