متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ کنور نوید خود تو خسارے میں رہے مگر قوم کو خسارے میں نہیں رہنے دیا، ہمارے مرحومین نے اگر جائیدادیں بنائیں اور مفادات حاصل کیے تو بتایا جائے۔
حیدرآباد میں خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد اپنی شناخت سرحوں کے اُس پار چھوڑ کر آئے، سن 1947 میں صرف ہجرت نہیں ہوئی تھی بلکہ دنیا کی بڑی تباہ کن آبادی اپنے حصے کا پاکستان ساتھ لائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہجرت کرنے والوں کی اولادوں کی شناخت کیلئے سیاسی نظریاتی طور پر مخالفت کی گئی، ہر فرقے جماعت اور اداروں نے شہری آبادیوں کو دیوار سے لگایا، ایم کیو ایم کے قیام کے وقت ہجرت کرنے والے جوان تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے مرحومین اپنے سروں کی قیمتیں لگواکر دنیا سے چلے گئے، بتایا جائے کہ ہمارے مرحومین نے کونسی جائیدادیں بنائیں اور مفادات حاصل کیے، اپنی قوم کے وقار کیلیے جدوجہد کی پاداش میں سروں کی قیمتیں ہمارے لیے نشان حیدر کے برابر ہیں۔
حالد مقبول صدیقی نے کہ کہا کہ حیدرآباد سے نکلنے والوں نے ایم کیو ایم کی باگ ڈور سنبھالی اور تنظیم کو پروان چڑھایا، آج کنور نوید کی غیر موجودگی میں ہمارے مخالفین کو سندھ اسمبلی میں لڑنا آسان ہوجائے گا۔
کنونیئر متحدہ کا کہنا تھا کہ کنور نوید ایم کو ایم کی پہچان اور شناخت تھے خود خسارے میں رہے لیکن قوم کو خسارے میں نہیں رہنے دیا، اس لڑائی میں ہم نے کئی جنازے اٹھائیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 23 مارچ کو پاکستان بنانے اور 1984 میں پاکستان کو بچانے کا وعدہ کیا گیا۔
خالد مقبول نے کہا کہ پاکستان سے سوال ہے کہ ہمارے جرائم کی فہرست سامنے لائی جائے، اگر ہم سے پہلے کراچی اور حیدرآباد میں امن تھا اور شیر و بکری ایک گھاٹ میں پانی پیتے تھے تو ہمیں آنے کی ضرورت کیوں پڑی۔
