شاھد مسعود کی معافی مسترد، سپریم کورٹ کے صبر کا پیمانہ لبریز، بڑی سزا کا اعلان

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوے اور انکشافات جھوٹ ثابت ہونے پر ان کے پروگرام کو تین ماہ کے لیے بند کر دیا ہے۔

شاہد مسعود نے کہا کہ دل کی گہرائیوں سے معافی مانگتا ہوں _ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے سارے پروگرام چلا کر دکھاتے ہیں، اپنی سزا خود تجویز کریں _

پاکستان 24 کے نامہ نگار کے مطابق شاہد مسعود نے کہا کہ مجھے دو ماہ کے لیے بند کر دیں _ چیف جسٹس نے کہا کہ معافی لکھ کر دیں اور اچھی طرح لکھیں

ڈاکٹر شاہد مسعود کو اپنے دعووں پر معافی مانگنی ہو گی، چیف جسٹس

ڈاکٹر شاہد مسعود تین ماہ تک پروگرام نہیں کر سکتے، عدالت

ہم آپ کو پھانسی نہیں دیں گے، چیف جسٹس

عدالت کا احترام نہایت ضروری ہے وکیل ڈاکٹر شاہد مسعود

ڈاکٹر شاہد مسعود غیر مشروط معافی مانگنے کو تیار ہیں، وکیل

ٹاک شو میں بھی غیر مشروط معافی مانگیں گے، وکیل

ہم آپکی عدالت میں ویڈیوز چلاتے ہیں، چیف جسٹس

ڈاکٹر شاہد مسعود کی پکار پر ہی قاضی آیا تھا، چیف جسٹس

ہر مظلوم کی پکار پر آئیں گے، چیف جسٹس

ڈاکٹر شاہد مسعود نے پروگرام میں جو کہا انسے کہیں اس پر خود پانی سزا تجویز کر دیں، چیف جسٹس

یہ کہتے تھے ہمیں پھانسی دیدی جائے، چیف جسٹس

میں دل کی گہرائیوں سے عدالت سے معافی چاہتا ہوں ، ڈاکٹر شاہد مسعود

ڈاکٹر صاحب آپ کی دل کی گہرائیوں کو میں بہت اچھے طریقے سے جانتا ہوں، چیف جٹسس

بہت عرصے سے آپ کے دل کی گہرائیوں کو سن رہا ہوں، چیف جسٹس

بشکریہ پاکستان 24

اپنا تبصرہ بھیجیں: