تم قتل کروہو کہ کرامت کروہو— عمیر دبیر

راؤ انوار، جی ہاں وہی ایس ایس پی جسے گذشتہ دنوں سابق صدر اور آج بابا رحمتے نے بہادر شخص قرار دیا، نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق صدر اور زبردست سیاسی فہم رکھنے والے آصف علی زرداری نے راؤ انوار پر لگنے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے بہادر بچہ قرار دیا تاہم جب تنقید شروع ہوئی تو بلاول ہاؤس کے ترجمان نے اُن کے نام کی پریس ریلیز چلائی اور بیان واپس لینے کا اعلان کیا۔

نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ نے گذشتہ 9 سے 10 سماعتوں میں راؤ انوار کا کافی انتظار کیا، وہ تو نہ آئے مگر ڈاکیا اُن کے خطوط چیف جسٹس کے سپرد کرگیا ،  ثاقب نثار صاحب نے پہلے خط پر بھروسہ کرتے ہوئے مفرور شخص کو نرمی اور تحفظ دینے کا اعلان کیا مگر پھر بھی وہ نہ مانے۔

آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ میں ایک ملزم کو اپنی تحریر میں اتنی ادب سے کیوں مخاطب کررہا ہوں؟، جبکہ اگر ان کی جگہ کوئی دوسرا  یعنی بالخصوص کراچی کا کوئی شہری ہوتا تو اُسے ہم صحافی تو، تمھارے، پکڑا گیا وغیرہ جیسے الفاظ سے مخاطب کرتے مگر ابھی ہم ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ اس کی کوئی اور وجہ نہیں بلکہ راؤ صاحب خود کرامتِ یافتہ شخصیت ہیں جنہیں فرشتوں کی مدد حاصل ہے اس لیے وہ کسی کو نظر تک نہ آئے۔

سپریم کورٹ کے بینچ نے آئی جی سندھ کی گذشتہ سماعتوں پر خوب سرزنش کی اور دیگر اداروں کو ہدایت کی کہ راؤ انوار کی گرفتاری میں قانونی مدد فراہم کی جائے، مگر جس پر فرشتوں کی رحمت ہو اُسے بھلا کون تلاش کرسکتا ہے، بلکہ اکثر تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ شخص سامنے ہوتے ہوئے نظر نہیں آیا کیونکہ ہماری آنکھوں پر ایک پردہ پڑ جاتا ہے۔

جو کچھ بھی ہوا اور جیسا بھی ہوا!!! سپریم کورٹ آف پاکستان میں آج نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت تھی، صبح سے غیر معمولی سیکیورٹی کے اقدامات کیے گئے، سماعت کے دوران سب کی نظریں دروازے پر اٹھ رہی تھیں، ایسا لگتا تھا کہ کسی کے منتظر ہوں!!، کچھ سرگوشیاں بھی ہوتی نظر آئیں۔

اسی دوران شور ہوا جیسے دلہا آگیا، سب کی نظروں میں ایک چمک پیدا ہوگئی، شاید کسی نے جیب سے کڑک نوٹ نچھاور کرنے کے لیے بھی نکالنے کی کوشش کی ہو اور کوئی دلہا کی بلائیں لینا چاہتا ہو کہ نظر نہ لگے مگر وہ اُس کے ساتھ آنے والے دوست یار اور سسرال والوں نے کسی کو قریب آنے نہیں دیا (ایسا منظر لگ رہا تھا)

خیر راؤ انوار اے سی گاڑی میں منہ پر سرجیکل ماسک لگائے سپریم کورٹ کے عقبی دروازے سے داخل ہوئے، (سرجیکل ماسک کون استعمال کرتا ہے، شاید ڈاکٹر) سیڑھیاں چڑھے، اریب قریب محافظ میرا مطلب حفاظتی حصار، بالآخر کمرہ عدالت میں پہنچے۔

چیف جسٹس آف پاکستان دیکھتے ہی مخاطب ہوئے اور ملزم کو کہا ‘آپ بہادر اور دلیر ہیں‘ کہاں چھپ گئے تھے، ملزم نے بھرپور صفائی دی اور کہا کہ تحفظات تھے، یہ الفاظ نکلنے تھے کہ چیف جسٹس نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ، اب فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا، اس دوران تین رکنی بینچ کے ججز مفرور ایس ایس پی اور استغاثہ کو کمرہ عدالت میں بیٹھا کر کہیں چلے گئے اور جاتے جاتے ایک بات کہی ’ہم کسی سے مشورہ لینے نہیں جارہے‘۔

ساتھ ہی پاکستان کے صادق اور امین چیف جسٹس نے اعلان کیا کہ ملزم کے بینک اکاؤنٹس فوری بحال کردیے جائیں، واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر اسٹیٹ بینک کے گورنر اعتراف کرچکے تھے کہ راؤ انوار کی تنخواہ اکاؤنٹ میں آرہی ہے مگر وہ نکال نہیں سکتے۔

جو کچھ بھی ہوا اُس کے بعد اٹھنے والے سوالات بہت سنگین ہیں، میرے ذہن میں تو جب بھی کوئی سوال آتا ہے فوراً لاحول ولا قوۃ  پڑھ کر بائیں کاندھے پر تھتکار دیتا ہوں تاکہ شیطان کا وسوسہ غالب نہ آجائے، الحمد اللہ یہ عمل کافی سود مند بھی ثابت ہورہا ہے مگر ایک شعر نہ جانے کیوں ان مناظر جیسے (ملزم بغیر ہتھکڑی ، بغیر پٹی بندھے گرفتار اور سخت سیکیورٹی اور روپوشی کی جگہ، اکاؤنٹس کی فوری بحالی ) کو دیکھ کر یاد آرہا ہے۔

خنجر پہ کوئی داغ ہے نہ دامن پہ کوئی چھینٹ

تم قتل کروہو کہ کرامت کروہو

اپنا تبصرہ بھیجیں: