کراچی:‌ طالبہ کی معمولی غلطی پر پرنسپل کی غیر اخلاقی حرکات، اہل خانہ شدید پریشان، سال ضائع ہونے کا خدشہ

میٹرک طالبہ کی معمولی غلطی، پرنسپل نے انا کا مسئلہ بنالیا، سالمیٹرک طالبہ کی معمولی غلطی، پرنسپل نے انا کا مسئلہ بنالیا، سال ضائع ہونے کا خدشہ، والدین کو مسلح افراد سے ہراساں بھی کرایا۔

کراچی: گورنمنٹ کمپری ہینسو ہائر سیکنڈری اسکول نارتھ ناظم آباد کی پرنسپل نے معمولی غلطی پر انا کا مسئلہ بناتے ہوئے طالبہ کا ایڈمیٹ کارڈ روک کر شرط عائد کی ہے کہ اگر وہ پرنسپل کی من مانی درخواست پر دستخط کریں گے تو معاملہ حل ہوجائے گا اور بچی کا ایڈمیٹ کارڈ بھی جاری کردیاجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق کورنمنٹ کمپیر ہینسو گرلز اسکول نارتھ ناظم آباد بلاک این کی پرنسپل شازیہ نے 23فروری کو اسکول آنے والی طالبہ سے موبائل چھینا اور تمام طالب علموں کو ہدایت کی کہ وہ اس لڑکی سے دور رہیں کیونکہ اُس کے والدین اور وہ خود خراب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔

بچی سے اسکول سے واپسی پر جب یہ بات والدہ کو بتائی تو وہ غصے کی حالت میں اسکول پہنچیں اور پرنسپل سے بات کرنے کی کوشش کی جس پر انہوں نے شرط عائدکی کہ قبضے میں لیا جانے والا موبائل ان لاک کر کے دکھایا جائے، طالبہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ انہیں سیکیورٹی لاک کھولنے یا بند کرنے کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہے۔

پرنسپل نے والدہ پر الزام عائد کیا کہ موبائل میں خرافات بھری ہوئی ہیں جو یہ لڑکی دوسری طالبات کو دکھا کر خراب کرتی ہے، اس ضمن میں جب لڑکی کے والد نے پرنسپل سے رابطہ کیا تو انہوں نے سیاسی وابستگی اور اعلیٰ حکام سے تعلقات گنوانے شروع کردیے، جس پر طالبہ کے والد غصہ ہوئے اور دفتر میں بدمزگی کا ماحول پیدا ہوا۔

اس تمام تر صورتحال میں لڑکی کے والد نے زور سے پرنسپل کے دفتر میں رکھی ہوئی میز پر ہاتھ مارا اور باہر آگیا جس کے بعد پرنسپل نے 8ویں جماعت میں پڑھنے والی دوسری بہن کے بارے میں بھی غلط بیانی کرنا شروع کردی۔

اہل خانہ اور علاقہ مکینوں کے مطابق کچھ دنوں قبل پرنسپل نے رات کے وقت سیاسی جماعت کے شرپسند عناصر بھیجے جنہوں نے گھر کے دروازے پر لاتیں ماریں اور گھر میں موجود بیوی ، بچوں کو نازیبا کلمات بکتے ہوئے سب کو ہراساں کیا۔

والد کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایسی کوئی غلطی نہیں کی تاہم غصہ کرنے پر وہ نادم ضرور ہیں جس کا اظہار انہوں نے بنفس نفیس پرنسپل سے مل کر بھی کیا تاکہ بچی کا سال ضائع نہ ہو مگر پرنسپل اس مو¿قف پر ڈٹ گئی کہ اُن کی من مانی درخواست پر طالبہ کے والد کو دستخط کرنے ہوں گے جس کے بعد بچی کا ایڈمٹ کارڈ جاری کیا جائے گا۔

میٹرک کی طالبہ کے والد نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسی خاتون کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نام لے کر انہیں بدنام کررہی ہیں اور گھر پر مسلح لڑکے بھیج کر اہل خانہ کر ہراساں کررہی ہیں۔ لڑکی کے والدین نے کنٹرولر میٹرک بورڈ، ونگ کمانڈر، ڈسٹرکٹ سینٹرل کے چیئرمین ریحان ہاشمی اور پولیس میں درخواست دائر کردی ہے جس میں انہوں نے حکام بالا سے اپیل کی کہ انہیں اور اُن کے اہل خانہ کو مسلح افراد سے محفوظ رکھا جائے اور بچی کا ایڈمٹ کارڈ جاری کرایا جائے۔

اسٹاف ذرائع کے مطابق پرنسپل ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ سے وابستہ تھیں تاہم اب وہ پاک سرزمین پارٹی کی قیادت سے براہ راست رابطے میں ہیں اور اُنایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام سے کے تعلقات ہیں جس کی بنیاد پر اسٹاف ممبران اپنی نوکریاں بچانے کے لیے اُن کا ساتھ دینے پر رضامند ہوئے ہیں۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: