خادم رضوی کی گرفتاری کا حکم ہے تو حکومت عمل کرے : ترجمان پاک فوج

کراچی (ویب ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ عدالت نے تحریک لبیک کے سربراہ خادم رضوی کی گرفتاری کا حکم دیا ہے تو حکومت اور پولیس کا فرض ہے کہ اس پر عمل کرے۔

نجی ٹی وی کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے علامہ خادم رضوی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ عدالت نے تحریک لبیک کے سربراہ کی گرفتاری کا حکم دیا ہے تو حکومت اور پولیس کا فرض ہے کہ اس پر عمل کرے۔ کوئی بھی امن و امان کو ہاتھ میں لے تو اس کے کالف ریاستی مشینری کو حرکت میں آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا بطور پاکستانی چاہتا ہوں کہ اسمبلیاں مدت پوری کریں اور الیکشن وقت پر ہوں، ہر پاکستانی کی خواہش ہے کہ ملک میں جمہوری تسلسل برقرار رہے ۔

ایک وقت تھا جب سوات میں گلے کٹ رہے تھے اور کٹے ہوئے سروں کے ساتھ فٹبال کھیلا جارہا تھا سوات میں سانس لینا مشکل تھا ، پہلے وہاں 55 چیک پوسٹس تھیں لیکن آج صرف 6 رہ چکی ہیں، عوامی مطالبے پر سوات میں کنٹونمنٹ بورڈ بنایا گیا ہے۔ آرمی مشکوک افراد کو پکڑتی ہے تو 24سے 78گھنٹوں میں ابتدائی تفتیش کرلیتی ہے، بے گناہوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور مشکوک افراد کو انٹرنمنٹ سینٹرز میں بھیجا جاتا ہے، یہ سنٹرز صوبائی حکومت کے تعاون سے بنائے گئے ہیں ، جہاں اگر کوئی مر جائے تو ورثا اس کے پوسٹ مارٹم کی درخواست کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان پر پاک فوج کا کوئی اثر و رسوخ نہیں طالبان سے کوئی ایسا تعلق نہیں کہ ان کو جو کہیں وہ کر لیں، افغانستان میں امن کیلئے جتنا حصہ ڈال سکتے ہیں ڈال رہے ہیں۔امن کیلئے اور کچھ بھی کرنا ہوتو تیار ہیں۔ایلس ویلز سے آرمی چیف سے ملاقات میں بھی اس حوالے سے بات ہوئی۔ یہ کہنا کہ ہمیں طالبان کو مذاکرات پر لانا ہے تو 100فیصد درست نہیں۔ افغان حکومت اور امریکہ نے طالبان سے بات کرنی ہے۔ فورم کا حصہ ہونے کے ناطے پاکستان اپنا کردار ادا کررہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: