کراچی: ایم کیو ایم بہادر آباد اور پی آئی بی دھڑوں نے مستقبل میں ساتھ چلنے کی حکمت عملی تیار کرلی، فاروق ستار نے اپنے دیرینہ ساتھی کامران ٹیسوری کو مین اسٹریم سے ہٹانا بھی شروع کردیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار دو روز قبل جب ٹنکی گراؤنڈ سے کارکنان کے ہمراہ کامران ٹیسوری کی گاڑی میں مرکز بہادرآباد پہنچے تو رابطہ کمیٹی نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کو ہدایت کی کہ وہ کامران ٹیسوری کو باہر کھڑا رہنے دیں اور خود اندر آجائیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کامران ٹیسوری کو بہادرآباد مرکز کے باہر سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی جس پر وہ سیخ پا ہوئے اور اپنے کیے جانے والے احسانات کو باآواز بلند دہرانے لگے تاہم فاروق ستار نے صورتحال دیکھ کر بہادرآباد مرکز جانے کو ترجیح دی اور اپنی قریبی رفیق کو اہلیہ اور کارکنان کے ہمراہ چھوڑ کر رابطہ کمیٹی کے پاس پہنچ گئے۔
مزید پڑھیں: عامر خان نے متحدہ پاکستان کی کمان سنبھال لی، لندن کارکنان کو توڑنے کا فیصلہ
کامران ٹیسوری نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ نہیں آئیں گے تاہم کارکن کی حیثیت سے کام ضرور کرتے رہیں گے، گذشتہ روز اس تمام تر واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کامران ٹیسوری کو نقصان اُن کے رویے کی وجہ سے پہنچا۔
متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کہا کہ کامران ٹیسوری سیاست میں پختہ نہیں ہیں، انہیں میں خود ٹریننگ دوں گا، انہیں ابھی مزید سیاست سمجھنی ہوگی، کامران ٹیسوری کو معلوم ہے کہ میں سیاست میں 35 سال سے ہوں۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کامران ٹیسوری نے باہر کھڑے رہ کر اپنی عزت کو چار چاند لگائے، انہوں نے فوراً جو محسوس کیا اس پر ردعمل دیا، اس رویے نے انہیں بے حد نقصان پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں: عوام 23 اپریل کو پی پی حکومت مسترد کردیں گے، عامر خان
انہوں نے کہا کہ ہم صرف جلسے کے لیے متحد نہیں ہوئے بلکہ آگے اور مقاصد ہیں، جلسہ اس سفر کے آغاز کا ایک بہانہ ہے، 5 فروری سے 5 مئی کے سفر کو ماضی کا حصہ بنا دیں گے، ہم سب نے مل کر محاذ آرائی کی صورت حال سے اجتناب کیا، ایم کیو ایم کے مزاج سے تشدد ختم کرنے کا دعویٰ کرتا ہوں۔
سربراہ ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان آزمائش سے گزر رہی ہے، اختلافات کے باوجود ایم کیو ایم پاکستان کے ووٹر کا دباؤ رہا ہے، میں نے عوامی رائے کے احترام میں ضد یا انا جو نہیں تھی پس پردہ ڈال کر بہادر آباد گیا، ہمارا مشترکہ نہیں بلکہ ایک جلسہ ہوگا۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ رابطہ کمیٹی نے کہا تھا عامر خان اور آپ کے ساتھ ہی چلنا چاہتے ہیں، جس پر عامرخان نے مزاحیہ انداز میں کہا اب آپ میرے ساتھ کام کریں گے؟ جس پر میں نے جواب دیا صرف آپ کے ساتھ نہیں سب کے ساتھ کام کروں گا، عامر خان سے متعلق 90 پر چھاپے کا بیان جان کر نہیں دیا تھا۔
اسے بھی پڑھیں: پارٹی نہیں چلا سکتا، امریکا جانا چاہتا ہوں، فاروق ستار دل برداشتہ ہوگئے
یہ بھی پڑھیں: فاروق ستار کی بانی ایم کیو ایم سے رابطے کی کوشش ناکام
اس موضوع پر عامر خان نے کہا کہ کامران ٹیسوری کارکن ہیں، بہ حیثیت کارکن عزت دیں گے، بہادر آبادجو بھی آئےہمارے لیے باعث عزت ہے۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
