Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ایف اے ٹی ایف، بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے پاکستان کی نئی پلاننگ | زرائع نیوز

ایف اے ٹی ایف، بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے پاکستان کی نئی پلاننگ

اسلام آباد: پاکستان نے دہشت گردوں کے معاون مملک سے متعلق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ذیلی ادارے ایشیاء پیسیفک گروپ (اے جی پی)کے لیے منی لانڈرنگ کے خلاف اٹھائے جانے والے تمام اقدامات سے متعلق حتمی رپورٹ اور ایکشن پلان تیار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے پر نظر رکھنے والے ادارے نے پاکستان کو متنبہ کرتے ہوئے اس کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے بجائے گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا۔

حکام نے پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ اگر تین ماہ کے دوران پیدا ہونے والی شکایات کا ازالہ نہ کیا گیا تو بلیک لسٹ میں شامل کرلیا جائے گا جس کے بعد پاکستان پر سفری، معاشی پابندیاں عائد ہوجائیں گی۔

گزشتہ روز دفتر خارجہ میں جاری اجلاس کے اندر اگلے ہفتے بینکاک میں اے جی پی کے مشترکہ ورکنگ گروپ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات سے متعلق نکات پر حتمی تبادلہ خیال ہوا۔

خیال رہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں جون میں شامل کیے جانے کا فیصلہ ہوگا تاہم جمعہ کو ہونے والا اجلاس آخری تھا۔

وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ پاکستان کی جانب سے ایک وفد اگلے چند دنوں میں اے جی پی کے مشترکہ ورکنگ گروپ سےملاقات کرنے بینکاک روانہ ہو جائے گا جس میں پاکستانی وفد منی لانڈرنگ کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دے گا۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ کی تشکیل فنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذیلی ادارے نے تیار کی ہے۔

واضح رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک عالمی ادارہ ہے جو جی سیون (G-7) ممالک کے ایما پر بنایا گیا کہ جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد کی نگرانی کرتا ہے تاہم پاکستان اس ادارے کا براہِ راست رکن نہیں ہے۔

مذکورہ غیر سرکاری ادارہ کسی ملک پر پابندی عائد کرنے کے اختیارات نہیں رکھتا لیکن گرے اور بلیک کیٹیگری واضع کرتا ہے۔

‘گرے لسٹ سے متعلق سوال سیاسی ہے’

اس حوالے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے ڈان کو بتایا کہ حکومت نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو مالی معانت فراہم کرنے والوں کے خلاف متعدد اقدامات اٹھائے ہیں تاہم یہ سوال کرنا کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرے گا یا نہیں ‘یہ سوال سیاسی ہے’۔

وزارت خزانہ کے ایک ذرائع نے انکشاف کیا کہ ‘ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اٹھائے تمام تحفظات کو دور کرنے کے لیے متعدد اجلاس ہوئے اور فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ تاحال 300 رپورٹ تشکیل دے چکا ہے اور ان تمام رپورٹس میں کوئی دہشت گردی سے متعلق حوالہ موجود نہیں ہے۔

بشکریہ ڈان نیوز


یہ خبر 19 مئی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی