Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
پاک بھارت خفیہ ایجنسیاں کیسے کام کرتی ہیں؟‌ آئی ایس آئی کے لیفٹیننٹ اور را کے سابق سربراہ کی مشترکہ کتاب کی رونمائی | زرائع نیوز

پاک بھارت خفیہ ایجنسیاں کیسے کام کرتی ہیں؟‌ آئی ایس آئی کے لیفٹیننٹ اور را کے سابق سربراہ کی مشترکہ کتاب کی رونمائی

نئی دہلی / اسلام آباد: پاکسان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی اور را کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے پاک بھارت تعلقات اور دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی حکمت عملی سے متعلق کتاب تحریر کی جسے شائع کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق نئی دہلی میں منعقد ہونے والی تقریب میں “دا اسپائی کرونیکل” را، آئی ایس آئی اینڈ دی الیوژن آف پیس‘ نامی تصنیف کی رونمائی ہوئی جس کے دو مصنف ہیں۔

تصنیف کے مصنفین میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی، انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی اور بھارتی ہم منصب و را کے سابق سربراہ اے دولت ہیں تاہم جنرل (ر) اسد درانی کو بھارتی ویزا نہ مل سکا جس کے باعث وہ تقریبِ رونمائی میں شرکت نہ کرسکے۔

تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالاسز ونگ (را) کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے اپنی حکومت کو تجویز دی کہ وہ اگر پاک بھارت مذاکرات کے نئے آغاز میں سنجیدہ ہے تو بجائے کسی سویلین کے وہ بات چیت کے لیے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھارت کے دورے پر مدعو کرے تاکہ مذاکرات کے کچھ اثرات سامنے آسکیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اپنی گفتگو میں اے ایس دولت کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں سفارتی اور دفاعی میدان میں نئے زاویے آزمائے جارہے ہیں، کچھ دن قبل تک کون سوچ سکتا تھا کہ امریکی صدر ڈٖونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے سپریم لیڈر سے بات کرنے پر آمادہ ہوجائیں گے۔

جنرل (ر) اسد درانی نے اسلام آباد میں موجود بھارتی ٹی وی سے بذریعہ ٹیلی فون گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور اور ان کے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ کے مابین ہونے والی ملاقات ایک نئی سمت کا آغاز تھا جسے دونوں ممالک کی بیوروکریسی نے پنپنے نہیں دیا، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ میکانزم کے قیام کا معاہدہ دونوں ممالک کے لیے بڑی کامیابی ہوتا لیکن افسوس ایسا ہو نہ سکا۔

مشترکہ کتاب میں منصفین نے زور دیا ہے کہ ہمیں بھی عمومی سوچ سے ہٹ کر خطے کے معاملات کو دیکھنا ہوگا جیسا کہ سابق بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کہا کرتے تھے کہ جنرل باجوہ کو مدعو کیا جائے اور پھر نتائج دیکھیں۔ مصنفین نے دونوں ممالک کے عوام میں باہمی تعلقات کو بہتر بنانا نسبتاً آسان قرار دیا جس میں ویزے میں نرمی اور کرکٹ کی بحالی شامل ہے۔

جنرل درانی نے کتاب میں مزید لکھا ہے کہ نریندر مودی کی وجہ سے اجیت دوول کی اہمیت آجکل بڑھ رہی ہے کیونکہ بھارتی وزیراعظم تماشہ لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جاتے دیتے اور پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لیے دونوں ممالک ان شخصیات پر بھروسہ نہیں کرسکتے۔

آئی ایس آئی سے لیفٹیننٹ جنرل نے لکھا کہ اگر یہ دونوں شخصیات لاہور یا اسلام آباد مین موجود ہوئے تو یہ اقدام بھارت کے مفاد میں تو ہوسکتا ہے مگر یہ پاک بھارت مشترکہ تعلقات کی بحالی کے لیے کچھ اچھا نہ ہوگا۔

پاکستان میں پکڑے جانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن کے بارے میں ایس کے دولت کا کہنا تھا کہ اگر وہ را کا ایجنٹ تھا اور یہ آپریشن را کا تھا تو یہ خاصہ احمقانہ آپریشن تھا۔