Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
جسٹس ناصر الملک نگراں وزیراعظم منتخب، آخر یہ ہیں‌کون؟‌ جانیے | زرائع نیوز

جسٹس ناصر الملک نگراں وزیراعظم منتخب، آخر یہ ہیں‌کون؟‌ جانیے

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن نے نگراں وزیراعظم کے لیے جسٹس (ر) ناصر الملک کے مشترکہ نام کا اعلان کردیا، طویل دنوں تک رہنے والا ڈیڈ لاک بالآخر ختم ہوا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگراں وزیراعظم کا اعلان کیا اس موقع پر ایاز صادق بھی اُن کے ہمراہ تھے۔

انتہائی اہم ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مجوزہ ناموں میں سے ایک کو نگراں وزیراعظم کی تعیناتی کے لیے اتفاق کرلیا جس کا اعلان کچھ دیر بعد پریس کانفرنس کے دوران کیا جائے گا۔

وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر ڈیڈ لاک ختم ہوگیا تاہم ان سے پوچھا گیا کہ وہ کون سا نام ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ آج وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران اس کا اعلان ہوگا۔

یاد رہے کہ نگراں وزیراعظم کی تعیناتی کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب سے ذکاء اشرف اور جلیل عباس جیلانی کے نام سامنے آئے ہیں جب کہ حکومت نے جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی اور ڈاکٹر عشرت حسین کے نام تجویز کیے ہیں۔

نگراں وزیراعظم کے لیے اپوزیشن کے ناموں میں سے کسی ایک کا اعلان ہوسکتا ہے اور پیپلز پارٹی کی جانب سے تجویز کردہ سابق سیکرٹری خارجہ و سفیر جلیل عباس جیلانی کو نگراں وزیراعظم تعینات کیے جانے کا قومی امکان ہے۔

یاد رہے کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر مشاورت کے لیے اس سے قبل وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان 5 ملاقاتیں ہوئیں جو بے نتیجہ ثابث ہوئیں۔

اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف کی جانب سے پیپلز پارٹی کے پیش کردہ ناموں کو مسترد کیا گیا ہے تاہم حکومتی ناموں پر پی ٹی آئی متفق دکھائی دیتی ہے۔

جسٹس ناصر الملک کون ہیں؟ 

جسٹس (ر) ناصرالملک 17 اگست 1950 کو سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہو ئے، آپ نے ایبٹ آباد پبلک اسکول سے میٹرک اور ایڈورڈز کالج پشاور سے گریجویشن کیا۔ بعد ازاں 1977 میں لندن سے بار ایٹ لاء کرنے چلے گئے اور فراغت  کے بعد پشاور میں وکالت شروع کی، 1981 میں پشاور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری اور 1991 اور 1993 میں صدر منتخب ہو ئے۔

جسٹس (ر) ناصر الملک 4 جون 1994 کو پشاور ہائی کورٹ کے جج بنے اور 31 مئی 2004 کو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے پر فائز ہوئے اور 5 اپریل 2005 کو انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔

جسٹس ناصرالملک نے نہ صرف 3 نومبر 2007 کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا بلکہ وہ 3 نومبر کی ایمرجنسی کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے والے سات رکنی بینچ میں بھی شامل تھے۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھاکر وہ معزول قرار پائے اور ستمبر 2008 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دوبارہ حلف اٹھا کر جج کے منصب پر بحال ہوئے۔

جسٹس ناصر الملک پی سی او، این آر او اور اٹھارویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچوں کا حصہ رہے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں سزا سنانے والے بنچ کے سربراہ بھی وہی تھے۔ جسٹس ناصر الملک پاکستان کے 22 ویں چیف جسٹس تھے جو 6 جولائی 2014 سے 16 اگست 2015 تک اس منصب پر فائز رہے۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔