کراچی : سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کے مختلف اضلاع کی حد بندیوں کے خلاف ایم کیوایم کی درخواستیں مسترد کردیں ۔
منگل کو سندھ ہائیکورٹ کراچی کے مختلف اضلاع کی حلقہ بندیوں کے خلاف ایم کیوایم کی مختلف درخواستوں کی سماعت ہوئی اس موقع پر عدا؛ت نے کہا کہ حلقہ بندیوں پر تو سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے،ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کا بینچ بھی ایسی درخواستیں مسترد کرچکا ہے۔
وکیل ایم کیو ایم نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ مسلہ ٹائونز کی حد بندیوں کا ہے اسلئے الیکشن کمیشن فریق نہیں موجودہ درخواستیں ووٹرز کی جانب سے ڈیلیمیٹیشن اپیلیٹ اتھارٹی کے فیصلے کے خلاف ہیں حد بندیاں سندھ حکومت نے کئ ہیں میں دلائل کیلئے تیار ہوں میری درخواست سن لی جائے۔
عدالت نے وکلا کو دلائل کیلیے تیاری کرکے آنے کی ہدایت کی عدالت نے سماعت 12 بجے تک ملتوی کردی دوبارہ سماعت ہوئی اس موقع پر نشاط وارثی وکیل ایم کیو ایم نہ اپنے دلائل میں کہا کہ یہ مسلہ بنیادی طور پر یو سیز اور ٹائونز کی حد بندیوں کا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے جو نوٹیفیکیشن چیلنج کیا ہے اس پر عدالت فیصلہ دے چکی ہے، سپریم کورٹ نے بھی سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، وکیل ایم کیو ایم سندھ حکومت سیاسی فائدے کیلئے غیر منصفانہ حد بندیاں کی ہیں عدالت نے حد بندیوں سے متعلق ایم کیو ایم کی دو درخواستیں مسترد کردیں۔
درخواست میں صوبائی الیکشن کمیشن, سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا وکیل ایم کیو ایم نے بتایا کہ ضلع غربی میں یوسیز اور ٹاونز کی تشکیل غلط اور بدنیتی پر مبنی ہے, اورنگی ٹاون, مومن آباد, بلدیہ, نارتھ ناظم آباد اور شاہ فیصل کالونی میں حلقہ بندیاں غیر منصفانہ ہیں, اپیلیٹ اتھارٹی نے بھی ہمارا موقف نہیں سنا, یہ غیر منصفانہ عمل ہے،اگر حلقہ اور حد بندیاں درست نا ہوئیں تو انتخابات منصفانہ نہیں ہوں گے۔
