Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کراچی میں‌ تعینات 31 ایس ایچ اوز پر کرپشن اور سنگین الزامات، اہم پیشرفت | زرائع نیوز

کراچی میں‌ تعینات 31 ایس ایچ اوز پر کرپشن اور سنگین الزامات، اہم پیشرفت

کراچی: سپریم کورٹ کے حکم پر ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں قائم دو رکنی کمیٹی نے کراچی کے 31 موجودہ ایس ایچ اوز کے خلاف کرپشن اور جرائم پھیلانے کے سنگین نوعیت کے الزامات کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

پہلے مرحلے میں 9 تھانے داروں کو طلب کرکے ان سے الزامات کی تفتیش کی گئی۔

پولیس حکام کے مطابق حساس اداروں کی جانب سے مذکورہ 31 تھانہ انچارجز کے خلاف کرپشن اور جرائم کی سرپرستی کرنے کی رپورٹس سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی تھی جس پر اعلیٰ عدلیہ کے حکم پر ایڈیشنل انسپکٹر جنرل محکمہ انسداد دہشتگردی (آئی جی سی ٹی ڈی) سندھ ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی اور ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر نعیم شیخ پر مشتمل دو رکنی کمیٹی قائم کی گئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق کمیٹی نے پہلے مرحلے میں کراچی کے 9 ایس ایچ اوز کو الزامات کا سامنا کرنے کے لیے گزشتہ روز طلب کیا اور ان پر عائد سنگین الزامات کی تفتیش کی۔

پولیس حکام کے مطابق ان پولیس افسران میں پاک کالونی تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹرعزیز احمد شیخ، مومن آباد تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر محمد شعیب، گلستان جوہر تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر راؤ ذاکر محمود، ڈیفنس تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر علی رضا لغاری، ایس ایچ او اتحاد ٹاؤن انسپکٹر اسداللہ منگی، ایس ایچ او پیرآباد انسپکٹر محمد عرس راجر، ایس ایچ او کلاکوٹ سب انسپکٹر ارشد علی، ایس ایچ او سمن آباد سب انسپکٹر عامر اعظم صدیقی اور ایس ایچ او سائٹ ایریا سب انسپکٹر فرخ شہریار خان شامل ہیں۔

ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر نعیم شیخ کے مطابق کراچی کے مزید 22 تھانے داروں کو آئندہ دنوں میں طلب کرکے تفتیش کی جائے گی۔

ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر کے مطابق اس سلسلے میں تیار کی گئی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائےگی جس پر اعلیٰ عدالت کے فیصلے کی روشنی میں ان پولیس افسران کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔

بشکریہ جیو