Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اصغر خان کیس:‌ رقم دینے اور والے سول و عسکری سربراہان کو نوٹس جاری | زرائع نیوز

اصغر خان کیس:‌ رقم دینے اور والے سول و عسکری سربراہان کو نوٹس جاری

اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران پیسے وصول کرنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف، سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی اور عابدہ حسین سمیت21 سویلین کو نوٹس جاری کردیئے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے لاہور رجسٹری میں اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے وفاقی کابینہ کے فیصلے سے متعلق ایک سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کردی اور ساتھ ہی درخواست کی کہ حساس نوعیت کا معاملہ ہونے کی بناء پر رپورٹ کو دوبارہ سیل کردیا جائے، جس پر عدالت عظمیٰ نے رپورٹ کو سربمہر کردیا۔

اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا کہ کابینہ نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا فیصلہ کرتے ہوئے ایف آئی اے کو تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پیسے وصول کرنے والوں سے رقم کی واپسی کا کیا طریقہ کار بنایا گیا ہے؟

سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ نے نواز شریف، عابدہ حسین، جاوید ہاشمی سمیت 21 سویلین، اسد درانی سمیت کیس سے متعلقہ آرمی افسران اور ڈی جی نیب اور ایف آئی اے کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 6 جون تک ملتوی کردی۔

دوسری جانب عدالت عظمیٰ کی جانب سے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی سمیت کیس سے متعلقہ آرمی افسران، ڈی جی نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کو بھی نوٹس جاری کیے گئے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے 31 مئی کو سماعت کے دوران اصغر خان کیس پر کابینہ کا اجلاس نہ بلانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو شام تک کی مہلت دی تھی۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔