کراچی: پاکستان بھر میں عام انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہیں، تمام جماعتوں کے بڑے نام ایک سے زائد قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں تاکہ اُن کی جیت یقینی ہوسکے اور وہ ہر صورت اسمبلی کے رکن بنیں۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں ایک سے زائد حلقوں سے الیکشن لڑنے والے امیدواروں کو روکنے کے لیے درخواست دائر کی گئی جس میں درخواست گزار فائق جاگرانی نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک سے زائد نشتیں جیتنے کے بعد امیدوار آئین کے مطابق ایک ہی سیٹ رکھتا ہے۔
انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایک سے زائد نشتوں سے ایک ہی آدمی کے انتخابات لڑنے اور پھر سیٹ چھوڑنے سے نقصان ہوتا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن خالی نشست پر ضمنی انتخابات کراتا ہے جس کے لیے بیلٹ پیپرز و دیگر امور کے لیے بہت زیادہ اخراجات آتے ہیں۔
درخواست گزار نے استدعا کی کہ وہ ایک ہی امیدوار کے بیک وقت زائد حلقوں سے انتخابات لڑنے پر پابندی عائد کرے اور الیکشن کمیشن سے بھی جواب طلب کرے۔
عدالت نے ای سی پی کو جواب جمع کرانے کے لیے 4 جولائی تک کا وقت دے دیا اور تمام امیدواروں کی فہرست طلب کرلی۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
