لاپتہ ہونے والے مزید 2 سماجی کارکنوں کی واپسی

رواں ماہ لاپتہ ہونے والے پانچ سماجی کارکنوں میں سے مزید دو کارکن اپنے گھر واپس پہنچ گئے۔

ان کارکنوں کے اہل خانہ نے ڈان کو تصدیق کی کہ وہ بخیریت گھر واپس آگئے ہیں، اس سے قبل ہفتے کے روز بھی دو سماجی کارکن اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے تھے تاہم ایک کارکن ثمر عباس تاحال لاپتہ ہیں۔

اہل خانہ نے ڈان کو بتایا کہ اتوار کے روز عاصم سعید، وقاص گورایا اور اس کا کزن عبدالرحمٰن بحفاظت گھر واپس پہنچ گئے۔

عاصم سعید کے ایک رشتے دار نے اے ایف پی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘عاصم سعید نے اتوار کی صبح ہم سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ خیریت سے ہے’۔

رشتے دار نے یہ بھی بتایا کہ اس کے خاندان کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔

قبل ازیں مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے دیگر دو افراد نے بھی تقریباً تین ہفتے بعد ہفتے کے روز پہلی بار اپنے گھر والوں سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ خیریت سے ہیں۔

پروفیسر سلمان حیدر اور ننکانہ کے رہائشی احمد رضا نصیر کے اہل خانہ نے ڈان کو بتایا تھا کہ ان دونوں نے اپنے اہل خانہ سے رابطے کیے اور بتایا کہ وہ خیریت سے ہیں۔

سول پروگریسو الائنس پاکستان (سی پی اے پی) کے صدر ثمر عباس تاحال لاپتہ ہیں۔

یاد رہے کہ انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے لیے مہم چلانے والے پانچ کارکن 4 سے 7 جنوری کے دوران مختلف شہروں سے لاپتہ ہوگئے تھے جس کے بعد ملک بھر میں مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

ان کارکنوں کے لاپتہ ہونے کے واقعے کی ذمہ داری کسی گروپ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی تھی۔

ہیومن رائٹس واچ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کا کہنا تھا کہ رضاکاروں کی ایک ہی عرصے میں گمشدگی سے یہ خدشہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے حکومت کا ہاتھ ہے تاہم اس تاثر کو سرکاری حکام اور انٹیلی جنس ذرائع نے رد کردیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان دنیا میں صحافیوں کے خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں سیکیورٹی پالیسیوں اور دیگر حساس معاملات پر رپورٹنگ کرنا آسان نہیں۔

بشکریہ ڈان نیوز اردو

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں