ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ فتح کی صورت میں ہم اختیار کا مطالبہ نہیں کریں گے کیونکہ اب ہمیں اپنے لیے ایک الگ صوبہ چاہیے۔
حیدرآباد میں ایم کیو ایم کے تحت ہونے والے انتخابی مہم کے سلسلے میں منعقدہ جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں 22 صوبے بنائے جائیں۔
خالد مقبول صدیقی کا مزید کہنا ہے کہ ہمارے مینڈیٹ والے علاقوں میں ہمارے ہی جھنڈے سب سے کم نظر آتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہمارے پارٹی جھنڈے اتار دیے جاتے ہیں، جبکہ 10ہزار کےقریب ایم کیوایم کے کارکنوں کوگرفتارکیا جاچکا۔
علاوہ ازیں ایم کیوایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنونیر عامر خان نے کہا ہےکہ کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں آج جلسے کی اجازت بڑی مشکل سے دی گئی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج کے جلسے کی حاضری بتائے گی کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، 25 جولائی کو پتنگ آسمان کی بلندیوں پر اُڑے گی۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
