Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
توہین عدالت کیس، طلال چوہدری 5 سال کے لیے نااہل قرار | زرائع نیوز

توہین عدالت کیس، طلال چوہدری 5 سال کے لیے نااہل قرار

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے پانچ سال کے لیے نا اہل قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ سنایا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کو آرٹیکل 204 کے تحت توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عدالت برخاست ہونے تک کی سزا سنائی گئی اور پانچ سال کے لیے نا اہل قرار دیا گیا جبکہ ان پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

سابق وزیرمملکت برائے داخلہ نے طلال چوہدری نے عدالت میں 2 گھنٹے 5 منٹ قید کی سزا کاٹی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل عدالت عظمیٰ کی جانب سے ن لیگی رہنما طلال چوہدری کو فیصلے کے دن حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کی 24 اور 27 جنوری 2018 کی تقاریرمیں عدلیہ مخالف تقاریر پرنوٹس لیا تھا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے جڑانوالہ کے جلسے میں عدلیہ کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی تھی۔

سپریم کورٹ میں 14 مارچ کو ہونے والی سماعت کے دوران مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری پرفرد جرم عائد نہیں کی جاسکی تھی۔ بعدازاں 15 مارچ کو ان پرتوہین عدالت مقدمے میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے 11 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنایا گیا۔

واضح رہے کہ طلال چوہدری نے حالیہ انتخابات میں فیصل آباد کے حلقے این اے 102 سے الیکشن لڑا تھا لیکن انہیں پاکستان تحریک انصاف کے نواب شیر کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بشکریہ اے آر وائی


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔