اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہوں، حکومت کو الٹی میٹم دیتا ہوں، مصطفیٰ کمال

کراچی : مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کراچی کے لوگوں سے اہم فیصلہ لینے لگا ہوں، آج کے بعد کسی جلسے کا اعلان نہیں ہوگا، آج کے بعد مسائل کےحل کے لائحہ عمل کا اعلان ہوگا۔

کراچی میں جلسے کے خطاب کرتے ہوئے پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ کراچی میں بسنے والی تمام قومیتیں پی ایس پی کے جھنڈے تلے متحد ہیں، ایک ایم کیو ایم 22 اگست کے بعد چلنے کے قابل نہیں رہی،آج شہر کچرا کنڈی بنا ہوا ، سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں،کسی کومہاجروں کے شعورپرشک ہے تویہ ٹھاٹھےمارتا مجمع دیکھ لے، دوسری ایم کیو ایم بھی چلنے کے قابل نہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اردو بولنے والے شعور، ترقی اور پاکستان کے ساتھ ہیں، میں واپسی کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا، ہم پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے، حکمران دیکھ لیں ، کراچی نے اپنا فیصلہ دیدیا ہے، اب اس شہر والوں پر را کے ایجنٹ ہونے کا الزام نہ لگانا،اردو بولنے والوں کو جس نے برا کیا وہ خود عبرت کا نشان بن گیا ہے،اسیر کارکنوں کو واپس آنے دیں،ایم کیو ایم کو زندہ رکھنے کی باتیں کرنے والے مہاجروں کے دشمن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے بعدجب بھی ایم کیو ایم کا نام آئیگا بانی متحدہ کا نام ساتھ آئیگا،میرے بعد آنے والی نسلوں کی آنکھیں شرم سے جھک جائیں گی،میں آج ایم کیو ایم کی سیاست کو دفن کرنا چاہتا ہوں،ایم کیو ایم والے کہتے ہیں مینڈیٹ تقسیم نہیں ہوگا،ایم کیو ایم والوں سے کہتا ہوں آؤ اور دیکھو یہ جلسہ کہاں تک ہے،آج کراچی کا مینڈیٹ ہمارے پاس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں توانائی منصوبوں سے20فیصد بجلی کراچی کیلئے مختص کی جائے، حکمران سی پیک کا راگ الاپ رہے،ساڑھے 3 لاکھ بچوں کوغذا نہیں مل رہی، وزیراعظم صاحب،تختی لگانی ہے تو بچوں کے پیٹ بھرنے کی تختی لگاؤ، اس نسل کو پانی اور غذا دو، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ہمارا شکریہ ادا کریں،میں پاکستان کا کام کررہا ہوں، مصطفیٰ کمال

کے الیکٹرک شنگھائی الیکٹرک کو بیچ دی گئی ہے،کے الیکٹرک نے اوور بلنگ کرکے 62 ارب روپے کمائے،کے الیکٹرک کو بیچنے سے پہلے یہ 62 ارب روپے واپس کرو،نوجوانوں، میرے پاس آنے سے والدین منع کریں تو مت آنا،حق کی راہ میں مجھے کوئی مار دے توکسی سے بدلہ نہیں لینا۔

پاک سرزمین پارٹی قراردادیں

بعد ازاں سربراہ پی ایس پی مصطفی کمال جلسے میں قراداد بھی پیش کرتے ہوئے وفاقی، صوبائی اور شہری حکومتوں کو 30 دنوں کا الٹی میٹم دے دیا۔

کراچی میں پاک سرزمین کے جلسے میں قراداد پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا کہ آرٹیکل 140 اے کے تحت مقامی حکومتوں اختیارات دیئے جائیں،بین الاقوامی اصولوں کے مطابق مردم شماری کرائی جائے،کرپشن کے خاتمے کی مکمل تائید کرتے ہیں۔

آئینی ،قانون اور جمہوری حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،کراچی کوصاف پانی،نکاسی آب،ٹرانسپورٹ،تعلیم کی بنیادی سہولتیں ملنی چاہیے ، میرٹ پر روزگار کی فراہمی ملنی چاہئے،کراچی کی تعمیروترقی یقینی بنانے کیلئے فوری عملی اقدامات کئے جائیں۔

انہوں نے میئر کراچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا کچرا نہیں اٹھا سکتے تو میئر کراچی استعفیٰ دیدیں،مینڈیٹ مل گیا،اب کوئی رحمان ملک نہیں جو کال کرکے روک سکے،اب ہم اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے باہر نکلیں گے۔ سماء

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں