اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آتے ہی چھا گئے اور ایوان میں پہلی تقریر سے ہی ناصرف پاکستانیوں بلکہ وزیراعظم عمران خان کا بھی دل جیت لیا۔
وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد عمران خان نے تقریر کی تو اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی جس کے بعد شہباز شریف کی تقریر بھی کچھ ایسے ہی حالات میں ہوئی اور جب بلاول بھٹو زرداری کی باری آئی تو ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا تھا اور کانوں پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی لیکن پھر انہوں نے ایسا کام کر دیا کہ پورے ایوان میں سناٹا چھا گیا اور تمام اراکین نے ان کی تقریر خاموشی سے سنی۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر شروع کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمینٹ سپریم ادارہ ہے اور اس کا رکن بننے پر خوشی ہے۔ آج سرکاری بنچوں سے بھی احتجاج ہوا ہے، اگرچہ احتجاج کسی بھی جماعت کا حق ہوتا ہے مگر جو بڑی جماعتوں نے آج جو حرکت کی ہے اور تماشہ لگایا ہے، عوام اس تماشے کو پسند نہیں کرتی،اس تماشے نے قوم کو مایوس کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات پر جتنا پیسہ خرچ ہوا ہے اور جتنا خون دیا گیا ہے، ہمیں قوم کو مایوس نہیں کرنا تھا تاہم بڑی جماعتوں کے تماشے نے مایوس کر دیا۔ میں جناب سپیکر سے بھی امید کرتا ہوں کہ وہ آئندہ ایوان کو کنٹرول میں رکھیں گے۔
ان کا اتنا کہنے کی دیر تھی کہ پورے ایوان میں یکدم خاموشی چھا گئی اور پھر ایوان میں صرف ایک ہی آواز سنائی دیتی رہی جو بلاول بھٹو زرداری کی تھی۔
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے تقریر کی تیاری ایک ہفتے پہلے سے شروع کردی تھی اور انہیں پی پی کے سینئر رہنما فرحت اللہ بابر، شیری رحمان، رضا ربانی نے تربیت دی۔
پی پی کے سینئر رہنماؤں نے بلاول کو مشورہ دیا تھا کہ وہ لکھی ہوئی تقریر نہ پڑھیں بلکہ پوائنٹس کی صورت میں بات کریں، یہی ہوا کہ بلاول نے نکات یاد کیے اور اسمبلی میں اپنا پہلا ایسا خطاب کیا کہ سیاستدانوں سمیت مخالف جماعتوں کے کارکنان بھی اُن سے متاثر ہوگئے اور انہوں نے سینئر رہنماؤں کو پی پی چیئرمین سے سیاسی تربیت لینے کا مشورہ بھی دیا۔
