Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
پریس کلب پر چھاپہ، پاک فوج کے خلاف سرگرم جماعت اسلامی کا خفیہ میڈیا سیل پکڑا گیا

پریس کلب پر چھاپہ، پاک فوج کے خلاف سرگرم جماعت اسلامی کا خفیہ میڈیا سیل پکڑا گیا

کراچی پریس کلب پر چھاپہ مار کاروائی کے دوران کاؤنٹر ٹیررازم (انسداد دہشت گردی) پولیس فورس نے پاک فوج کیخلاف قائم جماعت اسلامی کے خفیہ “میڈیا سیل” کا سراغ لگا لیا

کراچی (رپورٹ- مبارک الماس):  جمعرات کی شب CTD پولیس نے کراچی پریس کلب پر چھاپہ مار کاروائی کے دوران پاک فوج کیخلاف چلائے جانے والے جماعت اسلامی کے خفیہ “میڈیا سیل” میں استعمال ہونے والے آلات اور عوام کو زائد نرخ پر فروخت کی جانیوالی ملکی اور غیر ملکی شراب کی سینکڑوں بوتلیں تحویل میں لے لیں۔

چھاپہ مار ٹیم کے پہنچتے ہی 3 صحافیوں رفیع ناصر، رحیم راحت اور جاوید اقبال کو زہریلی شراب پلا کر قتل کرنے میں ملوث ملزم عبدالستار اعوان اور انٹرنیٹ کے ذریعے قومی سلامتی کو داؤ پر لگانے والے جماعت اسلامی کے کارکن اور پریس کلب کے سرگرم صحافی و رکن عقبی راستے سے فرار ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق 08 نومبر 2018 کی شب 10 بجے CTD پولیس نے کراچی پریس کلب پر چھاپہ مار کاروائی کے دوران دو کمپیوٹر اور شراب کی سینکڑوں بوتلیں برآمد کی گئیں۔

سی ٹی ڈی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی پریس کلب کے اندر جماعت اسلامی کے (طالبان) سے وابستہ افراد کا اہم اجلاس جاری تھا جس کے دوران کسی شخص نے انٹرنیٹ استعمال کیا تو اُس کا موبائل ٹریس ہوگیا۔

چھاپہ مار ٹیم نے دو کمپیوٹر تحویل میں لیے جن کے ذریعے جماعت اسلامی کے سرگرم کارکنان پاک فوج کو بدنام کررہے ہیں اور اس خفیہ سیل کے ذریعے ہی حساس اداروں کو بدنام کیا جا رہا تھا۔

ذرائع کے مطابق CTD پولیس کو صحافتی حلقہ سے اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ کراچی پریس کلب کے اندر جماعت اسلامی کا ایک خفیہ “میڈیا سیل” قائم ہے جس کے ذریعے پاک فوج کیخلاف تیار کیا گیا مواد فیس بک اور ٹیوٹر سمیت دیگر ویب سائٹس پر ڈالا جاتا ہے-

ذرائع کے مطابق پاک فوج کیخلاف سرگرم جماعت اسلامی کے متعدد “میڈیا سیل” کے منظر عام پر آنے اور ملوث کارکنان کی گرفتاریوں کے بعد جماعت اسلامی کے ذمہ داران نے باہمی مشاورت کے بعد کراچی پریس کلب اور ادارہ نور حق میں دو خفیہ “میڈیا سیل” قائم کئے تھے-

ذرائع کے مطابق حساس اداروں نے CTD پولیس کی رپورٹ کے بعد جماعت اسلامی کے ذمہ دار اعجاز اللّٰہ خان کو کراچی اور حافظ فرحان گجر کو ساہیوال سے اسوقت گرفتار کیا جب ملزمان پاک فوج کیخلاف ادارہ نور حق میں تیار کیا گیا مواد خواتین کے نام پر بنائے گئے مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے فیس بک اور ٹیوٹر پر ڈال رہے تھے-

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کراچی پریس کلب جو مکمل طور پر جماعت اسلامی کے زیر اثر بتایا جاتا ہے پر CTD پولیس کے چھاپہ کے دوران فرار ہونیوالا ملزم عبدالستار اعوان کراچی پریس کلب کی اوپری منزل پر شراب خانہ چلاتا ہے اور نومبر 2011 میں شراب کی قلت کے دوران ملزم عبدالستار اعوان نے صحافیوں سمیت کراچی کے ہزاروں افراد کو زہریلی شراب فروخت کی تھی جس کی وجہ سے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے چیف رپورٹر رفیع ناصر، روزنامہ عوام کے کورٹ رپورٹر رحیم راحت اور روزنامہ ایکسپریس کے مارکیٹنگ منیجر جاوید اقبال ہلاک ہوگئے تھے۔ کراچی پریس کلب کی انتظامیہ نے متاثرہ صحافیوں کے اہلخانہ کو فی کس دو لاکھ روپیہ ادا کر کے انھیں قانونی کاروائی سے باز رکھتے ہوئے پولیس کو پوسٹ مارٹم سے روک دیا تھا-

ذرائع کے مطابق کراچی پریس کلب کے چوکیدار محمد شاہنواز نے بتایا کہ صحافی رحیم راحت کی موت کراچی پریس کلب کی اوپری منزل پر واقع “کارڈ روم” میں ہوئی تھی، ملزم عبدالستار اعوان نے پکڑے جانے کے خوف سے تیسرے روز رات کو کالی پیلی ٹیکسی کے ذریعے نعش کو انکے فلیٹ واقع گارڈن پہنچایا جہاں رحیم راحت تنہا رہائش پذیر تھے جبکہ ملزم عبدالستار اعوان نے انکی جیب سے فلیٹ کی چابی نکال کر نعش کو اندر منتقل کیا تھا-

ذرائع کے مطابق ملزم عبدالستار اعوان مقتول صحافی رحیم راحت کے فلیٹ سے کچھ ہی فاصلہ پر رہتا تھا اور اکثر و اوقات دونوں رات کو فراغت کے بعد ایک ہی ٹیکسی کے ذریعے اپنے گھروں کو جایا کرتے تھے- ذرائع کے مطابق کراچی پریس کلب کی اوپری منزل پر واقع “کارڈ روم” کے لاکرز اور پارکنگ میں واقع ملازمین کے کمروں میں شراب چھپا کر رکھی جاتی ہے جو بعدازاں کراچی کی بعض معروف سیاسی، مذہبی، سماجی اور قانونی شخصیات کو بھی زائد نرخ پر رات گئے تک فروخت کی جاتی ہے-

ذرائع کے مطابق صبح 04 سے 05 کے درمیان کالی پیلی ٹیکسی کے ذریعے ملکی اور غیر ملکی شراب کی محفوظ ترسیل کو کراچی پریس کلب میں ممکن بنایا جاتا ہے-

سی ٹی ڈی نے جماعت اسلامی کے سرگرم صحافیوں کی گرفتاری کے لیے فہرست تیار کرلی جن کو حراست میں لے کر مزید تفتیش کی جائے گی۔