سندھ ہائی کورٹ
کراچی: نجی اسپتال (آغا خان اسپتال) کو تجارتی بنیادوں پر چلانے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی جس میں انتظامیہ نے عدالت میں جواب جمع کرایا۔
جواب میں بتایا گیا ہے کہ آغا خان اسپتال نے دو سالوں میں 14 لاکھ مریضوں کا مفت علاج کیا۔ جس پر درخواست گزار محمد شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ جن مریضوں کا مفت علاج ہوا اُن کی تفصیل عدالت کو پیش کی جائیں۔
دُر محمد شاہ ایڈوکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مریض جب اغا خان اسپتال جاتے ہیں تو لاکھوں کا بل لیکر واپس اتے ہیں، آغا خان اسپتال کو رفاعی ادارہ قائم کرنے کیلئے حکومت نے زمین دی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال نے غریب اور مستحق مریضوں کا مفت علاج کرنے کے بجائے کاروبار شروع کردیا، آغاخان اسپتال انتہائی مہنگے داموں علاج کی سہولیات فراہم کررہا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ اسپتال انتظامیہ ہر غریب کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے کی پابند ہے لہذا احکامات جاری کیے جائیں کیونکہ اسپتال کو تجارتی بنیادوں پر چلانا شرائط کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے درخواست گزار کو تین ہفتوں میں جواب الجواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔
