شرجیل خان میچ فکسنگ میں‌ کیسے پکڑے گئے، چشم کشا انکشاف

کراچی (دنیا نیوز) پاکستان سپرلیگ سپاٹ فکسنگ سکینڈل پر تین کھلاڑی ملک واپس آ چکے ہیں جبکہ کھلاڑیوں سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ کھلاڑیوں کو بکیز نے کیا آفر کیں دنیا نیوز سامنے لے آیا۔

ذرائع کے مطابق کرکٹ بورڈ کے سکیورٹی انچارج کرنل اعظم نے کھلاریوں کو ہوٹل کی لابی میں بکی کے ساتھ پکڑا۔ پی سی بی حکام کے سوالات پر خالد لطیف نے بتایا کہ اسے ایک کرکٹر نے وٹس ایپ کیا کہ یوسف نامی شخص سے مل لو، 8 فروری کو یوسف بکی نے خالد لطیف کو فون کیا۔

خالد لطیف سے جب پوچھا گیا کہ ہوٹل میں آنے والا شخص کون تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ایک پاکستانی تھا۔ پی سی بی حکام نے سوال کیا ملاقات کی تو رپورٹ کیوں نہیں کی؟

ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ حکام نے شرجیل خان سے سخت سوالات کیے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ شرجیل خان کو بکی نے 2 بالز روکنے کے لیے 20 لاکھ دیئے۔ پی سی بی حکام محمد عرفان سے بھی تفتیش کر رہے ہیں۔

دریں اثنا پاکستانی کرکٹر شرجیل خان کے والد سہیل خان نے اپنے گھر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تحقیقاتی ٹیم پر پورا اعتماد ہے، سچ سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے شرجیل خان فکسنگ کے الزامات سے کلیئر ہوں گے۔ میری شرجیل سے بات ہوئی ہے، انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ پی سی بی نے شک کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو معطل کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے شرجیل سے متعلق کبھی کوئی منفی چیز نہیں دیکھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں