کراچی: شہر قائد کے علاقے قائدآبادمیں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران جاں بحق ہونے والا بچہ سجاد چوتھی جماعت کا طالب علم تھا، ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔
اہل خانہ کے مطابق سجاد نےحال ہی میں تیسری جماعت میں پوزیشن حاصل کی تھی، گھر والےسجاد کو نئی کتابیں اور بستہ لاکر دے چکے تھے، مقتول کو پیر سےنئے سال کی پڑھائی شروع کرنی تھی۔
ورثا نے پولیس کو سجاد کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرائیں گے، پولیس کوٹریننگ نہیں رہائشی علاقےمیں مقابلہ کیسےکیاجاتاہے۔
دوسری جانب ایس ڈی پی او قائد آباد اعجاز مغل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی موجودگی کی اطلاع پرکارروائی کی گئی، ملزمان نےپولیس کودیکھتےہی فائرنگ کردی،جس پر اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی، دو طرفہ فائرنگ میں بچےاور2پولیس اہلکارزخمی ہوئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ جائزہ لےرہےہیں بچےکی موت کس کے ہتھیار سے ہوئی،ورثا کوہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں نارتھ کراچی کے علاقے انڈا موڑ کے قریب ایک میڈیکل کی 22 سالہ طالبہ پولیس فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوئی تھی جس پر اہلکاروں کو معطل کیا گیا تھا۔ نمرہ کے انتقال پر سیاسی جماعتوں نے مذمت کی تھی اور پولیس میں ریفامرز کی بات بھی کی تھی مگر اُس کا اب تک کوئی فائدہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
