اسلامی ملک کی فوج دہشت گرد قرار

واشنگٹن: امریکی حکام نے مسلم ملک کی فوج پوری فوج پاسداران انقبلاب کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ اس فیصلے کا اعلان خود امریکی صدر نے کیا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پابندی سے ایک چیز واضح ہوجائے گی کہ ایران دہشت گردی کو فروغ نہیں دے رہا بلکہ پاسداران انقلاب ریاسی آلہ کار بن کر دہشت گردی کو ابھارنے اور پھیلانے میں فعال کردار ادا کررہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے دستے ’پاسداران انقلاب‘ عالمی سطح پر اس کی دہشت گردی کی مہم پھیلانے کا ایک ذریعہ ہیں۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے امریکہ کو ایران کے ساتھ ہونے والے عالمی جوہری معاہدے سے الگ کیے جانے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی تھی۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’محکمہ خارجہ نے یہ فیصلہ اس وجہ سے کیا ہے کہ ایران نہ صرف دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے بلکہ پاسداران انقلاب ریاستی حکمت عملی کے طور پر دہشت گردی کو فروغ دیتے ہوئے اس کے لیے فنڈنگ کرتے ہیں۔‘

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ اس اعلان کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ ایک ہفتے کے دوران اپنے معاملات درست کرلے وگرنہ امریکا اس ضمن میں بھرپور اقدامات کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران پر بہتر رویے اپنانے کے لیے دباؤ بڑھاتا رہے گا۔ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ امریکی اتحادی بھی ایسا ہی کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کی قیادت انقلابی نہیں ہے اور ’ہمیں ایرانی عوام کو ان سے آزاد کروانے کے لیے ان کی مدد کرنی چاہیے۔؛

امریکی صدر یہ بھی واضح کیا کہ اگر ایرانی حکومت یا کوئی بھی ملک پاسداران انقلاب سے رابطہ رکھے یا پھر اُن کے لیے ہمدردی رکھے گا تو وہ امریکا کی نظر میں دہشت گرد ہوگا۔

امریکی فیصلے کے اثرات

امریکا کے فیصلے کے بعد ایران کے رہنماؤں اور پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا امریکا میں داخلہ بند ہوجائے گا حتی کہ اگر پورپین مملک یا پھر ایشیائی کمپنیوں نے بھی رابطہ رکھا تو وہ بھی امریکا کی فہرست سے ہٹ جائیں گے۔

اس فیصلے کے بعد امریکا کو عراق اور لبنان میں موجود سفارت کاری کے حوالے سے کئی پیچیدگیوں کا سامنا ہوگا، امریکی فوجیوں اور سفارت کاروں کو پاسداران انقلاب کے حکام سے تعاون کرنے والے عراقی اور لبنانی حکام سے رابطے سے روکا جاسکتا ہے۔