شمالی وزیرستان: جماعت اسلامی کے سابق صدر و امیدوار برائے ممبر قومی اسمبلی تاج محمد وزیر نے جنوبی وزیرستان اور وانا میں ہونے والے صحافیوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے صحافیوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دے ڈالی۔
تفصیلات کے مطابق جنوبی وزیرستان میں منعقدہ احتجاجی مظاہرے کو کوریج نہ ملنے پر جماعت اسلامی کے رہنما نے کہا کہ صحافی انتظامیہ اور پاک فوج کے ایجنٹ ہیں، اگر یہ کہیں نظر آئیں تو ان سے کیمرے چھین کر قتل کردو۔
انہوں نے کہا کہ علاقے کے لوگ صحافیوں سے کیمرے اور موبائل فون چھین کر جہاد کریں اور صحافی جہاں بھی نظر آئیں انہیں مارا جائے۔
اس موقع پر جماعت اسلامی کی جانب سے نامزد ہونے والے امیدوار برائے قومی اسمبلی نے کہا کہ جنوبی وزیرستان اور وانا میں جتنے بھی صحافی قتل ہوئے اُن کی ذمہ داری میں اپنے سر لیتا ہوں۔
تاج محمد وزیر نے یہ اعلان جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل کے علاقے اعظم ورسک میں ایک احتجاجی مظاہرے میں سینکڑوں لوگوں سے مخاطب ہو کر کیا۔
جماعت اسلامی کے رہنما نے کہا کہ میڈیا والےمظاہرے کی کوریج کیلئے نہیں آئے یہ انتظامیہ اور فوج کے ایجنٹ ہیں۔ صحافیوں سے کیمرے، موبائل اور دیگر آلات چھین کر ان کے خلاف جہاد کریں۔
تاج محمد وزیر کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد جنوبی وزیرستان کے صحافیوں اعلیٰ حکام اور سیکیورٹی اداروں سے نوٹس لے کر جماعت اسلامی کے رہنما کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
صحافیوں نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے بھی بیان پر نوٹس لینے اور کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
