لندن: متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کے سابق سینیئر رہنما محمد انور اور طارق میر نے بانی ایم کیو ایم کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگراُن کے خلاف جاری پروپیگنڈا بند نہ کیا گیا تو دونوں عمران فاروق قتل کا اہم راز اسکاٹ لینڈ یارڈ کو بتا دیں گے۔
ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کے سابق ارکان محمد انور اور طارق میر نے پارٹی کو بھیجے جانے والے قانونی نوٹس میں خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے خلاف پروپیگنڈا اور ناپاک مہم بند نہ کی گئی تو وہ اپنی تشویش سے اسکاٹ لینڈ یارڈ کو آگاہ کر دیں گے اور پریس کانفرنس کر کے ان کے اور ایم کیو ایم بانی کے درمیان ہونے والی تمام بات چیت اور اطلاعات سے آگاہ کردیں گے۔
دونوں رہنماؤں نے اپنے خط میں خبردار کیا ہے کہ اگر معاملات اور ہرزہ سرائی بند نہ کی گئی تو عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے اہم راز اسکاٹ لینڈ یارڈ کو بتا دیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ محمد انور اور طارق میر اور ایم کیو ایم کے درمیان تنازع نے اُس وقت شدت اختیار کی کہ جب لندن کے علاقے ایجویئر میں واقع دو جائیدادوں کو انہوں نے الطاف حسین کے نام پر منتقل کرنے سے صاف انکار کیا۔
https://zaraye.com/mqm-leaders-fight-over-two-houses-worth-2m
لندن کے علاقے ایجویئر میں 20 لاکھ پاؤنڈ مالیت کی دو جائیدادوں کا جھگڑا ہے جو صرف محمد انور اور طارق میر کے نام ہیں جب کہ ایم کیو ایم کے رہنما ان جائیدادوں سے قانونی طور پر مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں۔ محمد انور اور طارق میر کا کہنا ہے اگر الطاف حسین کے وکیل ضمانت دیں کہ ایچ ایم آر سی تحقیقات ختم ہونے کے بعد تمام ٹیکس، جرمانے اور دیگر الطاف حسین ادا کر دیں گے تو جائیدادوں کی منتقلی پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
محمد انور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر میٹروپولیٹن پولیس کو مخاطب کر کے لکھا کہ ان کو ایم کیو ایم لندن سے وابستہ افراد سوشل میڈیا پر دھمکیاں دے رہے اور اور پاکستان میں موجود رشتہ داروں کی زندگیاں بھی خطرے میں آگئیں اگر انہیں کوئی نقصان پہنچا تو یہ لوگ (الطاف حسین اور ایم کیو ایم لندن) ذمہ دار ہوگی۔
ماضی میں وفادار تصور کیے جانے والے سابق ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ جائیدادیں بانی ایم کیو ایم کے نام پر نہیں خریدی گئیں بلکہ یہ تنظیم کی ملکیت ہیں۔
