چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی قائم مقام صدر پاکستان عہدے کے اہلیت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق پر مشتمل سنگل رکنی بنچ نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی.
چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو قائم مقام صدر بننے کے لیے اہل قرار دے دیا، چئیرمین سینیٹ کی قائم مقام صدر بننے کی اہلیت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں درخواست گزار کا کہنا تھا صادق سنجرانی کی اس وقت عمر تقریبا 41 سال ہے، آئین میں صدر بننے کے لیے عمر 45 سال ہے، صادق سنجرانی نے قائمقام صدر کا عہدہ سنبھالا تو آئینی بحران پیدا ہوگا۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ صادق سنجرانی کو قائم قام صدر کی ذمہ داریاں نبھانے سے روکا جائے، آرٹیکل 41 کے تحت چئیرمین سینیٹ کا انتخاب دوبارہ کیا جائے جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے 14 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا۔
یاد رہے کہ 12 مارچ کو چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں اپوزیشن جماعتوں کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار صادق سنجرانی کامیاب ہوئے تھے جبکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ ظفر الحق تھے۔
