راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے فوج سے ریٹائرڈ ہونے والے 26 افسران کو دفاعی تجزیہ کار کے طور پر میڈیا میں آنے کی اجازت سے دی۔
آئی ایس پی آر سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر، لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب، لیفٹیننٹ جنرل خالد مقبول، لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی دفاعی تجزیہ کار کے طور پر اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں لیفٹیننٹ جنرل یٰسین ملک، لیفٹیننٹ جنرل رضا احمد، لیفٹیننٹ جنرل اشرف سلیم، میجر جنرل اعجاز اعوان، میجر جنرل غلام مصطفیٰ، بریگیڈیئر سعد رسول، بریگیڈیئر فاروق حمید، بریگیڈیئر غضنفر علی، بریگیڈیئر اسلم گھمن، برگیڈیئر نادر میر، برگیڈیئر اسداللہ، برگیڈیئر آصف ہارون، برگیڈیئر حارث نواز، برگیڈیئر سید نذیر، برگیڈیئر سمسن سمسن شروف، ایڈمرل احمد تسنیم، ایئر مارشل شاہد لطیف، ایئر مارشل اکرام بھٹی، ایئر مارشل مسعود اختر، ایئر مارشل ریاض الدین ایئر وائس مارشل شہزاد چوہدری، اور ایئر کمانڈر سجاد حیدر کو بھی ٹی وی ٹاک شوز میں آنے کی اجازت ہوگی۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے مزید وضاحت کی گئی ہے کہ مذکورہ اشخصاص کی پروگرام میں پیش ہونے والی رائے ذاتی ہوگی وہ اپنے خیالات پیش کریں گے جس کا ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ میں چند اہم نام بھی شامل کیے گئے جو ماضی میں بے بکانہ انداز سے پاک فوج کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ ان ناموں میں جو اہم نام شامل نہیں ان میں بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ، لیفٹیننٹ (ر)جنرل محمد اسد درانی، لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود، میجر (ر) عامر اور آئی ایس پی آر کے دو سابقہ ڈائریکٹر جنرلز، میجر جنرل (ر) اطہر عباس اور میجر جنرل (ر) راشد قریشی شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا کہ کوئی اور ریٹائرڈ افسر جو بطور دفاعی تجزیہ کار میڈیا میں آنا چاہتا ہو وہ تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) کے لیے آئی ایس پی آر سے رابطہ کرسکتا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری (پیمرا) نے حال ہی میں تمام ٹیلیویژن چیننلز کو ہدایت کی تھی کہ خبرنامے یا کرنٹ افیرز پروگرام میں کسی ریٹائرڈ افسر کو مدعو کرنے سے قبل آئی ایس پی آر سے کلیئرنس حاصل کی جائے تا کہ ’قومی سلامتی کے امور پر ان کے خیالات جانے جائیں‘۔
بتاریخ 4 اپریل کو جاری ہونے والے اس نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’’متعلقہ محمکے‘‘ کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ جب ریٹائرڈ افسران کو ٹی وی پروگرامز میں مدعو کیا جاتا ہے تو وہ عموماً اپنے فوجی پس منظر اور ریٹائرمنٹ کی مدت کی وجہ سے تازہ ترین دفاعی اور سلامتی کی پیش رفت سے واقف نہیں ہوتے‘۔
یہ خبر 16 اپریل 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔
