کراچی کے دو میڈیا کارکنان کی جبری گمشدگی، کئی روز گزر گئے، پولیس حکام بے خبر

شہر قائد سے لاپتہ ہونے والے رپورٹر اٹھارہ روز گزر گئے، ابھی تک مطلوب حسین اور اب تک چینل کے کیمرہ مین کا سرغ نہ لگایا جاسکتا۔

تفصیلات کے مطابق  ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عبداللہ شیخ نے پیر کو پریس کانفرنس کے دوران روزنامہ جنگ کے رپورٹر مطلوب حسین سمیت نجی ٹی وی چینل کے کیمرہ مین کی جبری گمشدگی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ’’ وہ سی ٹی ڈی کے پاس نہیں ہیں اور ہمیں بھی اُن ہی کی تلاش ہے۔

جنگ اخبار کے انٹرٹیمنٹ اور لائف اسٹائل شعبے سے وابستہ رپورٹر مطلوب حسین کی جبری گمشدگی کو30 مارچ کی درمیانی شب نامعلوم افراد اپنے گھر سے زبردستی لے گئے تھے، کئی روز گزر جانے کے باوجود پولیس یا حساس ادارے اُن کا تاحال سراغ نہ سکے۔

پولیس نے 5 اپریل کو مطلوب حسین موسوی کے بھائی سید منہاج حسین کی مدعیت میں واقعہ کا مقدمہ نمبر 122/2019درج کیا تھا ۔

اس حوالے سے آئی جی سندھ کلیم امام، کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ ، ڈی آئی جی ایسٹ عامر فارقی اورایس ایس پی کورنگی علی رضا سمیت پولیس افسران نے اب تک پر اسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ افسران کی جانب سے مطلوب حسین کی جبری گمشدی کے حوالے سے اب تک انکے اہلخانہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

https://zaraye.com/jang-news-paper-reporter-missing/

دوسری جانب الفلاح تھانے کے تفتیشی انچارج محمد علی سولنگی کا کہنا ہے کہ واقعہ کی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں مل سکی ہے ،ڈی ایس پی رحیم شاہ سے جب استفسار کیا گیا تو انہوں نے معاملہ تفتیشی افسر پر ڈالتے ہوئے کہا کہ جب تک ایف آئی آر اے کلاس نہیں ہوتی اس وقت تک مقدمہ کی تفتیش تھانے کے تفتیشی افسر کے پاس ہی ہو گی۔