اسلام آباد: خدمت خلق فاؤنڈیشن منی لانڈرنگ کیس میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے اہم انکشاف کیا ہے کہ کے کے ایف کے فنڈ سے ایم کیو ایم رہنماؤں نے مراعات حاصل کیں۔
تفصیلات کے مطابق کےکےایف منی لانڈرنگ کیس کے حوالے سے سابق سینٹراحمدعلی کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی جس میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
تفتیشی افسر اعجاز شیخ اور ایف آئی اے کےاسسٹنٹ ڈائریکٹر بختیاراحمد چنہ عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سینیٹر احمدعلی کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں لہذا حفاظتی ضمانت منسوخ کی جائے۔
ایف آئی اے نے انکشاف کیا کہ ایم کیوایم رہنماوں نے95 کیریئر کے ذریعے41 کروڑ روپےکی منی لانڈرنگ کی، 2012میں ایم کیوایم کا ہر وزیر اور رکن اسمبلی 5 ہزارپاونڈ لندن لےکرجاتاتھا، لندن جانےوالوں کاتمام خرچ کےکےایف فنڈ سے ادا کیا جاتا ہے۔
بختیار چنہ نے دلائل دیے کہ سابق سینٹراحمد علی نے2014میں 14لاکھ پاونڈز نجی بینک میں جمع کرائے جبکہ کےکےایف کےاکاونٹس سے2009سے2017کےدوران 50کروڑروپےایم کیوایم کومنتقل ہوئے، ان سارے معاملات کا مرکزی کردار احمد علی ہیں۔
ایف آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ احمدعلی کےکےایف کےڈائریکٹرسےغیرقانونی طورپرٹرسٹی بنایا گیا، اور پھر انہوں نے 2010 سے دیگر سینیٹرز کی مدد سے بانی ایم کیو ایم کو ماہانہ رقم بھیجنا شروع کی، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق 2014 میں ایم کیو ایم کارکنان نے ایک قرارداد منظور کی جس کے بعد سے لندن سیکرٹریٹ کے مکمل اخراجات کراچی (خدمت خلق اکاؤنٹ ) سے بھیجے جانے لگے۔
مزید پڑھیں: خدمت خلق فاؤنڈیشن کو الزامات اور عصبیت کا نشانہ نہ بنائیں
قانونی افسر نے بتایا کہ منی لانڈرنگ کا آغاز 2010 میں ہوا، ہر سال خدمت خلق فاؤنڈیشن کے لیے 31 کروڑ روپے جمع کیے جاتے تھے جن میں سے 28 کروڑ لندن قیادت جبکہ تین کروڑ روپے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، اس بارے میں پوچھ گچھ کرنا ہے۔
ایف آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 28 کروڑ روپے کی تمام رقم احمد علی کے ذاتی اکاؤنٹ میں جمع ہوتی تھی، بعد ازاں ریحان منصور نامی ایک کردار سامنے آیا جس نے 25 کروڑ کی غیر ملکی کرنسی خریدی جب کہ اُس کی اہلیہ نے تین کروڑ 60 لاکھ روپے کے برطانوی پاؤنڈز خریدے۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ دونوں اکاؤنٹس کو اسٹیٹ بینک نے مشکوک قرار دے کر ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ اب تک ہونے والی تفتیش میں خواجہ سہیل منصورنے 14 لاکھ پاونڈز کی خریداری کی جس کاکوئی ریکارڈ نہیں، اسی طرح 2013 سے 2015 کے دوران کفن خریدے گئے جس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ ایم کیو ایم رہنما احمد علی کے بردار نسبتی کے زیر استعمال بلٹ پروفٹ گاڑی کے کے ایف فنڈ سے خرید کر ڈپٹی کنونیئر عامر خان کو دی گئی جس کی مالیت لاکھوں میں ہے۔
فیڈرل انویسٹی گیشن نے یہ بھی اعتراف کیا کہ 1988 سے 2009 تک کے کے ایف کے اکاؤنٹ میں کوئی منی لانڈرنگ یا بدعنوانی نہٰں ہوئی تاہم گزشتہ چند سالوں سے ٹرسٹیز نے عوام کو دھوکا دیا اور 80 فیصد فنڈ کو ذاتی استعمال کیا۔
