ایم کیو ایم،خدمت خلق فاؤنڈیشن منی لانڈرنگ کیس، عدالت نے ایف ائی اے کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا۔
کراچی: عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں ،بینکوں اور کے کے ایف کے دفاتر کی تحیقات کی اجازت کی اجازت دے دی جبکہ سابق سینیٹر ایم کیو ایم احمد علی ضمانت کی قبل از گرفتاری پر ملزم کی عدم حاضری پر اج بھی فیصلہ نہ سنایا جاسکا۔
سابق سینیٹر احمد علی کے وکیل احمد علی باقر مہدی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مؤکل کی طبیعت ناساز ہے اس لیے وہ پیش نہ ہوسکے، عدالت سے استدعا ہے ضمانت پر فیصلہ موخر کیا جائے ، عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزم کی موجودگی میں ہی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنایا جائے گا۔
عدالت نے احمد علی کی ضمانت سے متعلق درخواست پر فیصلہ 29 اپریل تک موخر کر دیا، ایف آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ منی لانڈرنگ کیس میں جے ائی ٹی تشکیل دی جا چکی، سابق سینیٹر تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے، دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے بھی کوشیش کی جاری ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق معاملہ کروڑوں کی منی لانڈرنگ سے زیادہ کا معلوم ہوتا ہے، ایم کیوایم کےسابق سینٹراحمدعلی پرالزام ہے کہ انھوں نے کروڑوں روپے منی لانڈرنگ کی، منی لانڈرنگ کی چھان بین،بینکوں اور ایم کیو ایم دفاتر پر چھاپے مارنے کی اجازت دی جائے، متحدہ بانی و دیگر کے خلاف مقدمے میں پیش رفت رپورٹ سیکرٹری جوائنٹ انوسٹی گیشن کی جانب سے جمع کرائی جاچکی ہے جبکہ ٹھوس شواہد بھی حاصل کرلیے گئے۔
رپورٹ میں ایف آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متحدہ بانی و دیگر کے خلاف مقدمہ میں ٹھوس شواہد حاصل کر لئے گئے، دستاویزاتی شواہد کی تصدیق برطانیہ سے کرانے کا فیصلہ کیا گیا، وزارت خارجہ کے زریعے دستاویزات کی تصدیق کرائی جارہی ہیں، متحدہ بانی کے گھر سے اسلحہ کی فہرست کا فرانزک کرانے کا بھی فیصلہ کیا تاکہ معلوم ہوسکے اسلحہ کہاں استعمال ہوا۔
ایف آئی اے نے رپورٹ میں بتایا کہ مقدمے میں بانی ایم کیو ایم سابق سینیٹر بابر غوری و دیگر مفرور ہیں، عدالت نے بانی ایم کیو ایم،بابر غوری و دیگر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے، ایف ائی اے نے 2017 میں کے کے ایف کے زریعے ایم کیو ایم رہنماؤں کے خلاف 5 لاکھ پاونڈ کی منی لانڈرنگ پر تحقیقات شروع کی تھی۔
