نئی دہلی: بھارت کی سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج پر سابقہ ملازمہ نے جنسی ہراساں اور زیادتی کا الزام عائد کردیا، اس خبر کے بعد بھارت میں ایک بھونچال سا آگیا۔
بھارت کی سپریم کورٹ میں کام کرنے والی خاتون وکیل نے الزام عائد کیا کہ انہیں چیف جسٹس رانجن گوگی نے نہ صرف ہراساں کیا بلکہ زیادتی کی بھی کوشش کی۔
پینتس سالہ جونیئر خاتون وکیل کی جانب سے یہ الزام ایک سماعت کے دوران لگایا گیا جس پر کسی کو بھی یقین نہ آیا، ایک روز بعد سپریم کورٹ کے وکیل نے اپنے اوپر عائد ہونے والے الزام کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا۔
چونسٹھ سالہ جج نے ملک کے سب سے بڑے چیف جسٹس پر عائد ہونے والے الزامات کے خلاف سماعت کی اور کہا کہ اُن کا انکار ہی ہم سب کے لیے کافی ہے، اس طرح کی حرکتیں یا الزامات کے پیچھے طاقتور لوگ ملوث ہیں۔
خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں گوگی نے اپنی ہوس مٹانے کی پیش کش گزشتہ برس اکتوبر میں اپنے گھر پر اُس وقت کی جب ہم ایک مقدمے کی تیاری کررہے تھے۔
خاتون وکیل کا کہنا تھا کہ ’اُس نے مجھے گلے لگایا اور میرے بازوؤں و دیگر کے دوسرے حصوں کو چھو کر اپنا حق جتانے لگا ساتھ میں اچھے مستقبل کی بھی لالچ دی‘۔
