کراچی: ایم کیو ایم کے سابق رہنما اور سربراہ تنظیم بحالی کمیٹی ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے وفاقی کابینہ میں نئی تبدیلیوں کو صدارتی نظام کی آمد قرار دے دیا۔
’’ صدارتی نظام آنہیں رہا صدارتی نظام آگیا ہے‘‘
انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آج ایک بڑی رات ہے پوری قوم کو شب برات کی مبارک ہو۔ انہوں نے نئی کابینہ کو جھوٹی تسلی قرار دیتے ہوئے اس کی بھی مبارک باد دی اور کہا کہ نئی کابینہ میں غیر منتخب معاونِ خصوصی کی اکثر تعداد اس بات کی غمازی ہے کہ صدارتی نظام آ نہیں رہا آگیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا اور نئی کابینہ بنادی گئی، بیٹنگ آرڈر اوپر نیچے کرنے سے کیا مشکلات ختم ہوجائیں گی؟ سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا تھا کہ ابھی مشکل وقت نہیں آیا مشکل وقت آنا باقی ہے اگر یہ مشکل وقت نہیں تو پھر کیا ہے؟
اُن کا کہنا تھا کہ لوگ ریلیف چاہتے ہیں منی بجٹ میں بھی عوام کو حکومت نے کوئی ریلیف نہیں دیا، پولیس میں سیاسی بھرتیاں کی گئی ہے جس کے باعث یہ واقعات پیش آتے ہیں، سندھ میں جتنی ٹرانسفر پوسٹنگ ہو رہیں ہے وہ سب کوئی خاص لوگ کر رہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ڈی جی ایم ڈی اے نے جو غلط کام کیا ہے اس کا بھی حساب ہوگا، کیا ایم ڈی اے بھی بحریہ ٹاون کی طرح پیسے دے کر اپنا حصہ ڈالے گا؟ بحریہ ٹاؤن اور ایم ڈی اے میں جو افسران کرپشن اور غیر قانونی الائٹمنٹ میں ملوث ہے ان کے خلاف کاروائی کب ہوگی؟
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کراچی میں پانی کا مسئلہ بڑھ رہا ہے پر کسی کی کوئی توجہ نہیں، سرکولر منصوبہ بھی اسے ہی کچہرے کے ڈرم میں پھینک دیا گیا، آنے والے بجٹ میں اللہ پاک پاکستان کے عوام پر رحم کرے وارنہ حکمران تو لوگوں کو مارنے کا سوچے بیٹھے ہیں۔
’’حکمرانوں نے لوگوں کو مارنے کا سوچھ لیا‘‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ میں تبدیلی حکومت اور پوری حکومتی ٹیم کی ناکامی ہے، اگر زرداری اور دیگر کے خلاف انکوائری چل رہیں ہے تو ملوث افسران کے خلاف بھی انکوائری کرنی چاہیں۔
