بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کے اینٹی انکروچمنٹ سیل نے انسداد تجاوزات آپریشن روک کر مؤقف اختیار کیا کہ ایم کیو ایم کی مسلسل مداخلت اور دباؤ کی وجہ سے اسے بند کرنا پڑ رہا ہے۔
بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اینٹی انکروچمنٹ سیل نے ایم کیو ایم کی مسلسل مداخلت اور غیرقانونی دباﺅ پر انسدادتجاوزات آپریشن بند بالکل بند کردیا، مذکورہ آپریشن سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے متعدد احکامات پر شروع کیا گیا تھا جس کے تحت سرکاری زمینوں پرقبضے اور تجاوزات ختم کیے گئے۔
انسداد تجاوزات آپریشن 2017ءمیں شروع ہونے والے ہوا جسے کئی بار روکا جاچکا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی بلدیاتی قیادت مسلسل رکاوٹیں ڈالتی چلی آرہی ہے اور سیاسی با اثر اور دولت مند قبضہ گیروں کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ ضلعی انتظامیہ کے کچھ افسران بھی اینٹی تجاوزات آپریشن ناکام بنانے میں ملوث ہیں۔
اعلیٰ عدلیہ اور واٹر کمیشن کے حکم پر حیدرآباد میں سرکاری زمینوں پر قبضوں اور تجاوزات کے خاتمے کے لئے 2017ءمیں آپریشن شروع ہوا تھا اس دوران عام، سیاسی اثر رسوخ سے محروم غریب شہریوں کی کروڑوں روپے مالیت کی رہائشی اور کمرشل تعمیرات منہدم کی گئیں لیکن سیاسی با اثر افراد اور دولت مندوں کے قبضے اور تجاوزات بدستور برقرار ہیں، ضلعی انتظامہ کے کچھ افسران اوربلدیہ کے سیاسی عہدیدار پر مخصوص لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی الزام ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے چند عناصر غیر قانونی کام کر کے بڑا کاروبار کررہے ہیں، جس کے باعث عام شہریوں میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے، امریکی شہریت رکھنے والے میئر سید طیب حسین ایم کیو ایم کے دباﺅ پر تقریباً 3 ماہ سے بدستور جبری رخصت پر ہیں جبکہ ڈپٹی میئر سہیل مشہدی قائم مقام میئر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ انسدادتجاوزات سیل بلدیہ کے انچارچ توحیداحمد نے قائم مقام میئر کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ ان کے علم میں لائے بغیر انکروچمنٹ سیل کا عملہ بہت سے غیرقانونی کام کر رہا ہے۔
انہوں نے اپنے خط میں طاہر مشہدی کو آگاہ کیا کہ ’’میں نے آپ کو اس سلسلے میں ایک نوٹ شیٹ بھی بھیجی تھی، اینٹی انکروچمنٹ سیل کی کارکردگی سے آگاہ کیا تھا لیکن آپ نے کوئی نوٹس نہیں لیا ، خصوصاً جب سے آپ نے عہدے کا چارج سنبھالا ہے مجھے بتائے بغیرکام ہورہے ہیں یہ آپ کے علم میں بھی ہے اور میں آگاہ بھی کرتا آ رہا ہوں‘‘۔
انہوں نے قائم مقام میئر کو بتایا ہے کہ ’’ لطیف آباد کا اسٹاف ایک بلڈرز کے پاس گیا اورآپ کا نام لے کر کام بند کرادیا اس کا سامان بھی قبضے میں لے لیا اوربلڈرز کو ہدایت کی میئر سے جا کر ملو ،آپ جانتے ہیں کہ بلڈرز سے کام بندکروانا بلدیہ کا کام نہیں بلکہ یہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کاکام ہے،اگر ایسا ہوتا رہا تو کل ہمارے شعبے کے بارے میں کچھ ہو سکتا ہے‘‘۔
اینٹی انکروچمنٹ سیل کے انچارج نے قائم مقام میئر سے استدعا کی کہ آپ کو مجھ پر کوئی اعتراض ہے تو آپ سٹی میں بھی ایک اسسٹنٹ رکھ لیں جو کام کرتا رہے اور میں صرف نام کے افسر کے طور پر بھی رہنے کے لئے تیار ہوں کیونکہ میرا کوئی مفاد نہیں، بعد ازاں میں خود کو آپریشن کے معاملے تک محدود کرلوں گا، یوں آپ کے افسرکا ایک اور ڈاکخانہ کھل جائے گا جیسے کہ لطیف آباد میں پہلے ہی کھلا ہوا ہے، آپ اچھی طرح واقف ہیں کہ ان معاملات میں کون ملوث ہیں اور میں کیا کہنا چاہتا ہوں، کون افسراتنے نیچے گر کرغلط کام کررہے ہیں ہم تجاوزات کا سامان اٹھا کر لاتے ہیں تو آپ کے تنظیمی عہدیدار پہنچ جاتے ہیں کہ سامان واپس کرو جو سیکٹر ڈی کے کام جبری سامان لے جا چکے ہیں ہم جو تجویز دیتے ہیں اس پر آپ کبھی عمل نہیں کرتے۔
توحید احمد نے نشاندہی کی ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سیکٹر ڈی کے کارکنان کے اس طرح کے واقعے میں ملوث تھے جس کے بارے میں آپ کو آگاہ گیا، روزانہ کی بنیاد پر تجاوزات ہٹانے کے لئے نکلنے والی گاڑیاں بند کردی جاتی ہیں، کوئی گاڑی نکالنی ہے یا نہیں اور کس طرح کام کرنا ہے،آپ جو ہدایت جاری کریں گے اس پر عمل ہو گا۔
