جامعہ کراچی کی خاتون پروفیسر کو ہراساں کرنے کا معاملہ، نیا رخ اختیار کرگیا

جامعہ کراچی کی خاتون پروفیسر کو ہراساں کرنے کا معاملہ نیا موڑ اختیار کرگیا، ایف آئی اے نے جامعہ کراچی کی متاثرہ خاتون پروفیسر کی کیس فائل ہی غائب کردی۔

کراچی: ایف آئی اے نے  جامعہ کراچی کی متاثرہ خاتون پروفیسر کی جعلی آئی ڈی کے ذریعے غیر اخلاقی تصاویر،  ویڈیوز فیس بک پر اپ لوڈ کرنے پر جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر کو گرفتار کیا تھا۔

ملزم فرحان کامرانی جعلی آئی ڈی کے ذریعے خاتون پروفیسر کی غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیوز فیس بک پر اپ لوڈ کرتا تھا، ایف آئی اے ملزم کو بچانے میں سرگرم کیس فائل غائب کرکے خاتون پروفیسر کو ہی حراساں کرنے لگی۔

ملزم فرحان کامرانی 4 اکتوبر سے گرفتار ہے جبکہ عدالت اُس کی چار بار درخواست ضمانت مسترد بھی کرچکی ہے، عدالتی احکامات کے باوجود کیس کے تفتیشی افسر حامد علی نے کیس فائل پیش نہیں کی، ملزم فرحان کامرانی کے ساتھی خاتون پروفیسر کو مختلف طریقوں سے حراساں کرنے لگے ۔

ملزم کے اہلخانہ اور دیگر ساتھیوں کی جانب سے خاتون پروفیسر کو حراساں کرنے پر مقدمہ مبینہ ٹاون تھانے میں درج ہے، عدالت نے ایف آئی اے کو واقعہ کی مکمل تفتیش کرکے کیس فائل پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: