اسلام آباد: حکومت پاکستان نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ لال مسجد آپریشن کے دوران تباہ ہونے والے مدرسے کو ریاست جلد تعمیر کردے گی۔
تفصیلات کے مطابق لال مسجد آپریشن سے متعلق دائر درخواست اور از خود نوٹس کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے جبکہ لال مسجد انتظامیہ کے وکیل نے بھی عدالت میں دلائل دیے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو مدرسہ تعمیر کرنے کی یقین دہانی کرتے ہوئے بتایا کہ مدرسہ انتظامی طور پر حکومتی کنٹرول میں رہے گا۔ حکومت کی یقین دہانی پر عدالت نے کیس نمٹا دیا۔ لال مسجد انتظامیہ کے وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ صرف ایک پلاٹ کا نہیں بلکہ دیگر معاملات بھی درخواست میں بیان کیے گئے۔ جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ وہ پہلو آپ بیان کریں جو اہم تھے اور عدالت نے چھوڑ دیے۔ عدالتی استفسار پر وکیل طارق اسد ایڈوکیٹ خاطر خواہ جواب دے کر عدالت کو مطمئن نہ کرسکے البتہ سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد اور وکیل کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
لال مسجد آپریشن، سابق وزیراعظم اور مشرف کے قریبی ساتھی نے نیا پینڈورا باکس کھول دیا
اسد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں عدالت میں کوئی جھک مارنے نہیں آیا جس پر جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ’’اوئے‘‘ کہہ کر مخاطب کیا، وکیل نے جوابی طور پر چیف جسٹس کو ’’یو اوئے‘‘ کہا۔ جس کے بعد بینچ کے دوسرے جج جسٹس یحیٰ آفریدی نے اسد ایڈوکیٹ کو بیٹھنے کی ہدایت کی اور غصہ ٹھنڈا رکھنے کا مشورہ بھی دیا۔
عدالت عظمیٰ نے لال مسجد پر آئینی پٹیشن کے علاوہ از خود نوٹس سمیت تمام درخواستیں نمٹا دیں۔
لال مسجد فاؤنڈیشن نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو چلینج کردیا
